شدت پسندی اور نفرت کی سیاست کے باعث مہاراشٹر دیگر ریاستوں سے پیچھے رہ گیا ہے
کیرالہ کو بھارت کا پاکستان کہنے کی سخت مخالفت
ممبئی: ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کا حلف لینے والے وزیر نیتیش رانے کیرالہ کو بھارت کا پاکستان قرار دیتے ہیں اور کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو ووٹ دینے والوں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ کیا ایسے شخص کو کابینہ میں رہنے کا حق ہے؟ یہ سخت سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’راشٹر پرتھم‘ کا دعویٰ کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو نیتیش رانے کے اس بیان پر فوری طور پر اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی کابینہ کے وزیر نیتیش رانے کے متنازعہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ رانے جیسے شخص سے آپ اور کیا امید کر سکتے ہیں؟ لیکن ہمارا سوال وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ہے کہ آج جاری ہونے والے فی کس خرچ کے اعداد و شمار میں مہاراشٹر کو بہار اور اتر پردیش کے ساتھ رکھا گیا ہے، جب کہ کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی غیر بی جے پی ریاستیں اس معاملے میں دوگنی آگے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان ریاستوں کے شہری اور دیہی علاقوں کے لوگ زیادہ کماتے ہیں اور ان کے پاس خرچ کرنے کی استطاعت بھی زیادہ ہے۔
اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ بی جے پی نے مہاراشٹر میں شدت پسندی اور نفرت کا زہر گھولا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ریاست اس مقام پر پہنچ گئی ہے۔ مہاراشٹر کو بی جے پی نے کس حال میں پہنچا دیا ہے؟ یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے۔ اتل لونڈھے نے نشاندہی کی کہ ریاست میں بے روزگاری اور مہنگائی سب سے زیادہ ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب دام نہیں مل رہا ہے۔ ایک ذات کو دوسری ذات سے لڑایا جا رہا ہے، ہندو مسلم کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ہر روز قتل اور ریپ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان تمام مسائل کی جڑ شدت پسندی اور نفرت کی سیاست ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ وزیر نیتیش رانے کے بیان نے مہاراشٹر کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو اس پر وضاحت دینی چاہیے کہ کیا نیتیش رانے جیسے شخص کو کابینہ میں رہنے کا حق ہے؟ یہ سوال بی جے پی اور عوام دونوں کے لیے غور طلب ہے۔