بی جے پی کی سیاست ذات پات اور مذاہب کے درمیان منافرت پر قائم ہے: نانا پٹولے

اقلیتی شعبوں کے کارکنان کو بھی عزت اور مواقع دیئے جائیں:ایم ایم شیخ
مہاراشٹر پردیش کانگریس اقلیتی شعبے کی جائزہ میٹنگ کاانعقاد

ممبئی:مرکز میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ ملک انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کو جو آئین دیا ہے وہ خطرے میں ہے، جمہوریت خطرے میں ہے۔ ملک کو فرقہ پرست طاقتوں سے بچانا ہمارے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ یہ کوئی آسان جنگ نہیں ہے لیکن اس کو شکست دینے کی طاقت صرف کانگریس پارٹی کے پاس ہے، اس کے لیے کانگریس کے پرچم تلے اکٹھے ہوجائیں۔یہ اپیل آج یہاں آل انڈیا کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے کی ہے۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کی جائزہ میٹنگ تلک بھون میں منعقد ہوئی،جس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات اور ڈیجیٹل ممبر رجسٹریشن کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپگڑھی نے مزید کہا کہ بی جے پی سماج میں زہر بونے کا کام کر رہی ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے کہ کرناٹک کا ایک بی جے پی وزیر ترنگا کو بھگوا سے تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے اور ملک میں اس کےخلاف کوئی ایک لفظ بھی نہیں بولتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے ملک کی جس آزادی کے لیے اپنا خون بہایا آج وہ آزادی، جمہوریت اور آئین خطرے میں ہے۔ ملک کو بچانے کی اس جنگ میں سب کو ایک ساتھ آنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف چار لوگ ملک چلا رہے ہیں۔ دو خرید رہے ہیں اور دو بیچ رہے ہیں اور یہ چاروں گجراتی ہیں۔

ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نےاس موقع پر کہا کہ بی جے پی کا نظریہ ذاتوں اور مذاہب کے درمیان لوگوں کو تقسیم کرکے حکومت کرنے کا ہے۔ پچھلے 8 سالوں میں یہ سیاست نہایت زوروں سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جہاں تمام ذات و مذاہب کے لوگ سکون واطمینان سے رہ رہے ہیں، وہیں بی جے پی اس میں فرقہ پرستی کا زہرگھول رہی ہے ۔ناناپٹولے نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ملکی دولت بیچ کر ملک چلارہی ہے ۔ نریندر مودی حکومت نے پبلک سیکٹر کی 26 کمپنیوں واداروں کو فروخت کردیا ہے ۔ ملک کو تباہ کرنے کا کام جاری ہے۔ ملک کو اس نظریے اور تقسیم کی سیاست سے بچانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایم شیخ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اقلیتوں کو کانگریس سے بہت امیدیں ہیں اور ہمیں ان امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک عہدیدار کی حیثیت سے ہمیں کسی صلے اور کسی ستائش کی قطعی طلب نہیں ہے بس ہم یہ چاہتے ہیں کہ اقلیتوں کے مسائل حل ہوں اور اس کے لئے کانگریس میں بھی اقلیتوں کو بھرپور نمائندگی اور احترام ملنا چاہئے۔ ایم ایم شیخ نے اس موقع پر ضلعی کمیٹیوں میں اقلیتی شعبے کے عہدیداروں کی شمولیت کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اگر ان کمیٹیوں میں اقلیتی طبقے کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا تو وہ مزید مضبوطی کے ساتھ کام کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بڑے لیڈروں نے چھوٹے کارکنان کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے، یہ نہیں ہونا چاہیئے۔ انہیں بھی مختلف کمیٹیوں میں شامل کرنا چاہیئے، ایس ای او بنانا چاہیئے تاکہ انہیں احساس ہو کہ ان کی بھی عزت ہے۔

اس جائزہ میٹنگ سے سابق وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی میں شامل جو پارٹیا ں شامل ہیں ان میں سے ایک کے پاس وزارت اعلیٰ ہے تو دوسری کے پاس نائب وزیراعلیٰ کا عہد ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کانگریس جس کے بغیر اس حکومت کا قیام بھی ممکن نہیں تھا اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ جب ریاست میں ہماری حکومت تھی تو ہم نے ضلعی کمیٹیوں میں مسلمانوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے تھے۔ نسیم خان نے اس موقع پر مولاناآزاد مالیاتی کارپوریشن کا شیئر کیپٹل ایک ہزار کروڑ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ٹیکسٹائل کے وزیر اسلم شیخ نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور مرکزی کی مودی حکومت پر جم کر تنقید کی۔

اس میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، اقلیتی شعبہ کے قومی صدر عمران پرتاپگڑھی،اقلیتی شعبہ مہاراشٹر کے انچارج احمد خان، سابق وزیر وریاستی کارگزار صدر نسیم خان، وزیرٹیکسٹائل اسلم شیخ، سابق وزیر انیس احمد، وقف بورڈ کے صدر ایم ایل اے وجاہت مرزا، ریاستی اقلیتی شعبہ کے صدر ایم ایم شیخ، ابراہیم بھائی جان، ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار ، مناف حکیم، ممبئی کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر ببوخان،میونسپل کارپوریٹر سفیان ونو، اقلیتی شعبہ کے عہدیدار انیس قریشی، جبار پٹیل، اویس قادری، ندیم مجاور، حنیف شیخ اور اقلیتی شعبہ کے دیگر عہدیداران کثیر تعداد میں موجود تھے، جبکہ مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے اقلیتی طبقے کے لوگ شریک ہوئے ۔