بھارت میں سونے کی خریداری پر مکمل پابندی لگے گی؟ حقیقت کیا ہے — تفصیل جانیے

نئی دہلی:نریندر مودی نے حال ہی میں بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگلے ایک سال تک سونا نہ خریدیں۔ یہ اپیل ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے غیر ملکی سفر سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم کی اس اپیل کے بعد راہل گاندھی نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں سونے کو نہایت اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر شادیوں میں دلہن کو بڑی مقدار میں سونا پہنایا جاتا ہے۔

ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے مقصد سے مودی نے عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کی، جس کے بعد سررافہ بازار میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو زیورات کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی دوران یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ کیا حکومت واقعی سونے کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس درآمد، تجارت اور مالیاتی لین دین کو منظم کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔ بھارت میں اس سے قبل بھی سونے کی ملکیت اور تجارت سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم مکمل پابندی لگانے کے بجائے حکومت عام طور پر ٹیکس، ضوابط اور دیگر پابندیوں کے ذریعے سونے کے بازار کو کنٹرول کرتی ہے۔

یعنی سونے کی خریداری پر مکمل پابندی لگانا عملی طور پر مشکل ہے۔

گزشتہ سال بھی حکومت نے سونے کی درآمد اور خریداری سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا تھا، جس کے تحت درآمد کنندگان کو آرڈر دینے کے لیے سرکاری اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا۔

لہٰذا اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کی ہے، لیکن فی الحال حکومت کی جانب سے سونے کی خریداری پر مکمل پابندی لگنے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading