سبز اور بھگوا رنگ کے نام پر کچھ طاقتوں کی سیاسی مفاد حاصل کرنے کی سازش
77واں یومِ جمہوریہ کانگریس کے ریاستی صدر دفتر تلک بھون میں جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
ممبئی: ترنگا ملک کی آن، بان اور شان ہے۔ اس پرچم کے لیے بے شمار لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، لیکن آج کچھ فرقہ پرست طاقتیں اپنے تنگ نظر سیاسی مفادات کے لیے سبز اور بھگوا رنگ کے نام پر سیاست کر کے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کانگریس کے کارکنان اور آئین پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ پورے مہاراشٹر میں دل دل میں اور گھر گھر ترنگا پہنچانے کا عزم کریں۔ یہ اپیل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کی۔
کانگریس کے ریاستی صدر دفتر تلک بھون میں 77واں یومِ جمہوریہ ہرش وردھن سپکال کے ہاتھوں پرچم کشائی کے ساتھ جوش و خروش میں منایا گیا۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے سب کو 77ویں یومِ جمہوریہ کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے بعد ملک کی تعمیر میں کانگریس پارٹی کا بڑا حصہ رہا ہے۔ یہ ایک مسلسل ریاضت ہے اور اس ریاضت کے ساتھ جدوجہد جڑی ہوئی ہے، جسے سنبھال کر رکھنا ضروری ہے۔ آج ملک میں کچھ طاقتیں ذات اور مذہب کی سیاست کر رہی ہیں۔ کوئی سبز رنگ کی سیاست کر رہا ہے تو کوئی بھگوا رنگ کی۔ سبز اور بھگوا دونوں رنگ قابلِ احترام ہیں، سبز خوشحالی کی علامت ہے اور بھگوا ایثار اور وقار کی نشانی۔ ترنگا ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے اور اس کے لیے آج بھی قربانی دینے کا جذبہ زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ایم آئی ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ آزادی سے قبل کے دور میں ان کے باہمی تعلقات رہے ہیں۔ جن سنگھ نے محمد علی جناح کی پارٹی کے ساتھ انتخابات لڑے اور حکومت بنائی، جس میں جن سنگھ کے شیاما پرساد مکھرجی نائب وزیرِاعظم تھے۔ آج اسی سوچ کو نئی شکل میں زندہ کیا جا رہا ہے۔
ستارہ ضلع میں منشیات کے معاملے پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ستارہ میں ایک منشیات فیکٹری پکڑی گئی تھی جو نائب وزیرِاعلیٰ ایکناتھ شندے کے بھائی کی زمین پر تھی۔ وہاں کام کرنے والے 43 میں سے 40 بنگلہ دیشی مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا اور وزیرِاعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ایکناتھ شندے کو کلین چِٹ دے دی۔ اگر اسی وقت سخت کارروائی ہوتی تو آج اتنا بڑا ذخیرہ سامنے نہ آتا۔ منشیات کے اس کالے دھندے سے آنے والا پیسہ ووٹروں اور مخالف پارٹیوں کے عوامی نمائندوں کو خریدنے میں استعمال ہو رہا ہے اور اس پورے معاملے کے اصل سرغنہ دیویندر فڑنویس ہیں۔
مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو پدم بھوشن ایوارڈدیئے جانے پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بھگت سنگھ کوشیاری نے آئینی عہدے کی توہین کی اور آئین کے ساتھ ساتھ شیواجی، شاہو اور پھولے کی بے ادبی کی، اس کے باوجود انہیں پدم بھوشن دیا گیا۔ پونے کی ایک سماجی تنظیم نے مجھے ایک ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن چونکہ وہ ایوارڈ کوشیاری کے ہاتھوں دیا جانا تھا، اس لیے میں نے اسے قبول نہیں کیا۔ داوؤس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سپکال نے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری آنی چاہیے، لیکن دیویندر فڑنویس بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ پہلے 16 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس دعوے کی حقیقت کیا ہے، یہ عوام کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔
پرچم کشائی کی اس تقریب میں سیوادل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڑے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری پرفلّ گڈّے پاٹل، ریاستی نائب صدر راجیش شرما، ریاستی جنرل سکریٹری سید ذیشان احمد، جوجو تھامس، شروتی مہاترے سمیت کانگریس سیوادل اور پارٹی کے دیگر عہدیداران موجود تھے۔
MPCC Urdu News 26 January 26.docx