کسانوں کے مسائل پر 3 مارچ کو ریاست گیر احتجاج: ہرش وردھن سپکال

میونسپل کارپوریشن کے مسائل پر 4 مارچ کو میونسپل کارپوریشن علاقوں میں کانگریس کا احتجاج

ریاستی کانگریس کے عہدیداروں کے اجلاس میں ریاست کی سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال

وزراء بے فکر اور افسران بے قابو، انتظامیہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام

ممبئی: ریاست میں بی جے پی و اس کی اتحادی حکومت کے دوران کسانوں کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ زرعی پیداوار کو مناسب قیمت نہیں مل رہی اور مہایوتی حکومت کی طرف سے قرض معافی کے انتخابی وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔ ان مسائل کے پیش نظر کانگریس نے 3 مارچ کو ریاست بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح میونسپل کارپوریشن کے ترقیاتی کاموں میں تعطل کے خلاف 4 مارچ کو کارپوریشن کے علاقوں میں احتجاج کیا جائے گا۔ یہ معلومات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دی ہے۔

تلک بھون میں ریاستی کانگریس کے عہدیداروں کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں عوام کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور احتجاج کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ اس کے علاوہ 8 اور 9 مارچ کو بیڑ ضلع میں سدبھاونا پدیاترا کے انعقاد اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے امور پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ اس اجلاس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری و مہاراشٹر کے معاون انچارج بی ایم سندیپ، کنال چودھری، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن و مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر نسیم خان، ریاستی نائب صدر ایڈووکیٹ گنیش پاٹل، چیف ترجمان اتل لونڈھے سمیت دیگر ریاستی عہدیداران موجود تھے۔

میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہایوتی حکومت کسان مخالف اور سرمایہ داروں کی حامی ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار جیسے سویا بین 4000 روپے فی کوئنٹل کی کم قیمت پر فروخت کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ پیاز، چنا، کپاس کو بھی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ اب جب کہ کسانوں کی ارہر کی دال مارکیٹ میں پہنچ رہی ہے، مرکزی حکومت نے آسٹریلیا سے ارہر کی دالیں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملے گی۔ اس غیر دانشمندانہ پالیسی کے خلاف کانگریس پارٹی 3 مارچ کو ریاست بھر میں تمام ضلعی دفاتر پر احتجاج کرے گی۔

ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ تین برسوں سے مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات نہیں ہوئے۔ تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے اور اقتدار کو اپنی جیب میں رکھنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ ریاست کی تمام طاقتیں ان کے ہاتھ میں رہیں، جبکہ وزیر اعظم مرکز میں تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بی جے پی حکومت نے اقتدار کی تقسیم کے اصول کو ہی ختم کر دیا ہے۔ وقت پر انتخابات نہ کرائے جانے کی وجہ سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے اور اب صرف سرپرست وزیر، اراکین اسمبلی اور ٹھیکیدار ہی حکمرانی کر رہے ہیں۔ ان حالات کے خلاف کانگریس 4 مارچ کو میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں احتجاج کر کے حکومت کی توجہ عوامی مسائل کی جانب مبذول کرائے گی۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ وزراء کے پی اے اور پی ایس کی تقرری کے لیے وزیر اعلیٰ نے 106 افراد کو کلیئرنس دے دی، لیکن 16 افسران کو ‘فکسر’ قرار دے کر تقرری سے انکار کر دیا۔ وزیر اعلیٰ کو ان 16 فکسر افسران کے نام اور ان وزراء کے نام بھی عام کرنے چاہئیں جن کے ماتحت یہ افسران کام کر رہے تھے۔ صرف افسران پر کارروائی کافی نہیں، بلکہ ان وزراء پر بھی کارروائی ہونی چاہیے جو ان معاملات میں ملوث ہیں۔ عوامی مسائل حل نہ ہونے اور بدحال انتظامیہ کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے ایک نوجوان نے وزارت میں آ کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ انتظامیہ کی بے حسی کے سبب عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران غیر قانونی ریزورٹس میں پارٹیاں منا رہے ہیں، ہر طرف بدنظمی اور لاپرواہی کا ماحول ہے۔ افسران بے قابو ہیں اور وزراء بے فکر، یہی وجہ ہے کہ ریاست میں بدانتظامی کا دور دورہ ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading