جاوید اختر (نئی دہلی)
ریاست اتر پردیش کی پولیس نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے مال خانے میں رکھے لاکھوں روپے کے سونے کے زیورات بارش میں ’پگھل‘ گئے اور جب انہیں خشک کرنے کے لیے چھت پر رکھا گیا تو بندر انہیں اٹھا لے گئے۔
عدالت نے پولیس کی وضاحت کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سونا بارش سے نہ تو پگھل سکتا ہے اور نہ ہی تباہ ہو سکتا ہے۔
ریاست اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں پولیس کی جانب سے عدالت کو دی گئی اس غیر معمولی وضاحت نے عوام اور عدالتی حلقوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مال خانے میں محفوظ تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کے سونے کے زیورات میں سے کچھ بارش کے پانی سے ”پگھل‘‘ گئے تھے جبکہ باقی زیورات بندر اٹھا کر لے گئے۔
اس معاملے میں سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب عدالت نے پولیس کو 17 سال پرانے ایک مقدمے سے متعلق ضبط شدہ زیورات ان کے قانونی حق داروں کو واپس کرنے کا حکم دیا۔
پولیس کی حیرت انگیز دلیل
جہیز کے لیے قتل کا یہ کیس 2007 میں ایک خاتون رانی اگروال کی موت کے بعد درج کیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم سے قبل پولیس نے خاتون کے زیر استعمال زیورات اپنی تحویل میں لے کر مال خانے میں جمع کرا دیے تھے۔
تقریباً 17 سال تک یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت رہا۔ بالآخر 2024 میں عدالت نے شواہد کی کمی کے باعث ملزمان کو بری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ زیورات متاثرہ خاندان کے حوالے کیے جائیں۔
جب عدالت نے زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو پولیس نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا کہ مال خانے میں موجود زیورات نمی کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے انہیں خشک کرنے کے لیے تھانے کی چھت پر رکھا گیا۔
پولیس کے مطابق اسی دوران بارش شروع ہو گئی جس سے بعض زیورات ”پگھل‘‘ گئے جبکہ باقی ماندہ زیورات بندر اٹھا کر لے گئے۔
گم شدہ زیورات میں سونے کی ایک انگوٹھی، ایک بڑا ہار اور دس طلائی چوڑیاں شامل تھیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔
عدالت نے وضاحت مسترد کر دی
عدالت نے پولیس کی اس وضاحت کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ سیشن جج لکشمی کانت شکلا نے کہا کہ سونا بارش سے نہ تو پگھل سکتا ہے اور نہ ہی تباہ ہو سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حساس نوعیت کے قیمتی اور سیل شدہ شواہد کو آخر کھلی چھت پر بغیر نگرانی کے کیوں رکھا گیا۔
عدالتی مشاہدے کے مطابق ابتدائی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ اہلکاروں نے زیورات میں خرد برد کی اور بعد میں ریکارڈ میں غلط اندراجات کر کے حقیقت چھپانے کی کوشش کی۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ عرصے میں مال خانے کی نگرانی دو اہلکاروں کے سپرد تھی، لیکن اب دونوں ہی وفات پا چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ذمہ داری کے تعین کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

چند سال قبل بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہزاروں لٹر ضبط شدہ شراب چوہوں نے پی لی تھی۔
چوہے ہزاروں لٹر شراب پی گئے!
سائنس کے مطابق سونا ایک’نوبل میٹل‘ ہے، جس پر عام پانی، ہوا یا معمول کے موسمی اثرات کوئی کیمیائی اثر نہیں ڈالتے۔ سونا زنگ نہیں پکڑتا اور نہ ہی عام بارش کے پانی میں گھل یا پگھل سکتا ہے۔
خالص سونے کو تحلیل کرنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور کیمیائی محلول استعمال کیا جاتا ہے، جو مرتکز ہائیڈروکلورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ کا مرکب ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ چند سال قبل بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہزاروں لٹر ضبط شدہ شراب چوہوں نے پی لی تھی۔
دراصل ریاست میں شراب بندی قانون نافذ ہونے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 9 لاکھ لٹر سے زائد شراب ضبط کی تھی۔ لیکن جب پولیس اہلکاروں کو یہ شراب عدالت میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا تو پولیس کی دلیل تھی کہ یہ ساری شراب چوہے پی گئے تھے۔