رام مندر کے بعد اب متھرا کے کرشن مندر میں بھی چندے کی مبینہ چوری پر تنازع، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

متھرا: ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اب متھرا کے شری کرشن جنم استھان مندر میں بھی چندے اور نذرانوں کے حساب کتاب کو لے کر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ شری کرشن جنم بھومی مقدمے کے فریق اور ہندو رہنما دنیش فلاہاری مہاراج نے یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنے خون سے خط لکھ کر معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فلاہاری مہاراج کا الزام ہے کہ شری کرشن جنم استھان مندر میں برسوں سے چاندی اور دیگر قیمتی اشیاء کی چوری ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق جب مندر کی دان پیٹیاں کھولی جاتی ہیں تو مبینہ طور پر سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دیے جاتے ہیں اور چندے میں آنے والی نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیاء کا مکمل اور شفاف حساب نہیں رکھا جاتا۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ سی بی آئی تحقیقات کرائی جائیں۔ فلاہاری مہاراج نے خبردار کیا کہ اگر جانچ نہیں کرائی گئی تو وہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کریں گے۔

دوسری جانب متھرا ضلع انتظامیہ نے سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والے چندہ گھوٹالے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مندر میں موصول ہونے والے چندے کی گنتی سی سی ٹی وی نگرانی میں کی جاتی ہے اور پوری کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھی جاتی ہے۔ حکام نے عوام سے غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ ایودھیا کے رام مندر میں چندے سے متعلق تنازع کے بعد اب متھرا کے شری کرشن جنم استھان مندر کا یہ معاملہ بھی سیاسی اور مذہبی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ تاہم اب تک ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی تفتیشی ایجنسی نے ان دعوؤں کی توثیق کی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading