
’


کسی دھمکی یا دباؤ کے سامنے جھکے نہیں‘: ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ٹرمپ کا مفاہمتی یادداشت کا دفاعایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے ایران نے ’اپنی عزت کا سودا نہیں کیا۔‘ ادھر پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزر لینڈ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ اور پزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت متوقع ہے۔خلاصہامریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ ’ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے‘ کے لیے تیار ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ان کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔14 نکاتی دستاویز کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آئندہ 60 دنوں کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔ اس دوران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گیاسلام آباد کا کہنا ہے کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کے نئے دور پر ابھی غور جاری ہےامریکی حکام کے مطابق 14 نکات پر مشتمل اس معاہدے کے مطابق ایران کو ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ دیے جائیں گےمعاہدے میں ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے‘ کا اعلان کیا گیامعاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران ’زیادہ سے زیادہ 60 دن میں بات چیت کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے

ایران نے اپنی عزت اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا: پزشکیان
پزشکیان،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے ایران نے ’اپنی عزت کا سودا نہیں کیا۔‘ایکس پر فارسی زبان میں دستخط شدہ دستاویز کی تصویر کے ساتھ ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’یہ متن ایک ایسی قوم کی آواز کی عکاسی ہے جس نے کسی دھمکی یا دباؤ کے نتیجے میں اپنی عزت اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا۔‘’جو کچھ آج قلم بند ہوا، وہ قوم کی ثابت قدمی، سیاسی دانش مندی اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔‘
اسرائیل میں اپوزیشن جماعت کی نیتن یاہو پر تنقید,لوسی ولیمسن، بی بی سی نیوز
اسرائیل میں اپوزیشن جماعت کی نیتن یاہو پر تنقید،تصویر کا ذریعہAFP VIA GETTY IMAGES
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور اس میں موجود شرائط پر اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔
ایک اپوزیشن جماعت کے سربراہ اویگدور لیبرمین نے کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم اسرائیل کے عوام کے سامنے آئیں اور یہاں بھی اور دنیا کے ممالک کے سامنے بھی واضح کریں کہ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
’ہم ایرانی محاذ اور لبنانی محاذ کے درمیان کسی بھی تعلق کو قبول نہیں کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف اسرائیلی مفادات کے مطابق عمل کریں گے، نہ کہ عالمی سٹاک ایکسچینج میں ایندھن کی قیمتوں کے مطابق۔‘