منڈے صاحب!اصل گٹکھا کاروباریوں کے خلاف کاروائی کی ضرورت

جہاں سے گٹکھے کی منتقلی ہورہی ہے وہاں چھاپہ مارا جائے
ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)ریاست مہاراشٹر میں فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ (FDA) کے کمشنر کے طور پر تکارام منڈے کی تقرری کے بعد ریاست بھر میں غیر قانونی کاروبار، غذائی ملاوٹ اور ممنوعہ اشیاء کی فروخت کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان سخت اقدامات کے باعث غیر قانونی گٹکا، خوشبودار پان مسالہ اور دیگر ممنوعہ اشیاء کا کاروبار کرنے والوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔

گزشتہ دو روز سے ناندیڑ شہر اور ضلع میں فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ کی ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں۔ ذرائع کے مطابق کل صبح سے ہی شہر کی متعدد پان ٹپریاں اور گٹکا فروخت کرنے والی دکانیں بند دیکھی گئیں۔ اگرچہ کمشنر توکارام منڈے خود ناندیڑ نہیں پہنچے، تاہم ان کی خصوصی ٹیم کی موجودگی اور متوقع کارروائیوں کی اطلاعات نے غیر قانونی کاروبار کرنے والوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔چند روز قبل فوڈ اینڈ ڈرگس انتظامیہ نے ناندیڑ کے بعض معروف میڈیکل اسٹورز پر چھاپے مار کر بڑی مقدار میں ایکسپائر شدہ ادویات ضبط کی تھیں۔

ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بعض میڈیکل اسٹورز پر مریضوں کو زائد المیعاد (Expired) ادویات فروخت کی جا رہی تھیں، جس کے بعد محکمہ نے سخت کارروائی عمل میں لائی۔اب انتظامیہ کی توجہ غیر قانونی گٹکا اور خوشبودار پان مسالہ کی فروخت پر مرکوز ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں دن دہاڑے گٹکا، زردہ اور ممنوعہ پان مسالہ فروخت کرنے والی دکانوں اور ٹپریوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تاہم چھوٹے کاروباریوں کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف خوردہ فروشوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ بڑے ذخیرہ اندوزوں اور تھوک تاجروں کے خلاف بھی سخت اقدامات ضروری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی گٹکا مافیا کا خاتمہ چاہتی ہے تو ریاستی سرحدوں پر دیگر ریاستوں سے آنے والی گٹکا سپلائی کو روکنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔ ان کے مطابق مہاراشٹر میں فروخت ہونے والے ممنوعہ گٹکے کا بڑا حصہ بیرونی ریاستوں سے آتا ہے، لہٰذا سپلائی چین ختم ہونے کی صورت میں اس کاروبار پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور مہاراشٹر حکومت کے مختلف نوٹیفکیشنز کے تحت گٹکا، خوشبودار سپاری اور تمباکو ملا پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت پر پابندی عائد ہے۔ اسی طرح فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعہ 26 کے تحت غیر محفوظ اور ممنوعہ غذائی اشیاء کی فروخت جرم ہے، جبکہ دفعہ 59 کے تحت ایسی اشیاء کی فروخت پر جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت زائد المیعاد یا غیر معیاری ادویات کی فروخت بھی قابلِ تعزیر جرم ہے۔

ریاست مہاراشٹر میں روزانہ کروڑوں روپے مالیت کے گٹکے کا کاروبار ہونے کا اندازہ ہے، جس میں کئی بڑے ناموں کے ملوث ہونے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف چھوٹے فروشوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہوگی بلکہ گٹکا سپلائی کرنے والے بڑے نیٹ ورک اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ریاستی سطح پر مربوط مہم چلانا ضروری ہے۔ اسی صورت میں حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading