شندے-فڈنویس حکومت کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے!

21

گیلی خشک سالی کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کو 1.5لاکھ اور 75ہزار روپئے کی امداد دی جائے

ممبئی:موسلا دھار بارش کی وجہ سے ریاست میں کسانوں کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے اپوزیشن پارٹیاں مسلسل مطالبہ کررہی ہیں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معمولی امداد بھی کسانوں تک نہیں پہنچی ہے۔ کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن شندے-فڈنویس حکومت کسانوں کی مدد کرنے کے بارے میں بات تک نہیں کر رہی ہے، یہ حکومت کسانوں کی خودکشی کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ریاستی حکومت پر یہ تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ ہم نے کسانوں کا مسئلہ اسمبلی میں اٹھایا، لیکن شندے-فڈنویس حکومت اس مسئلہ پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔کسانوں، مزدوروں، بے روزگاروں اور عام لوگوں کے مسائل پر اس کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ ریاست کی ای ڈی حکومت کسی بھی معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔اسمبلی میں وزراء کی طرف سے دیئے گئے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت کس قدر لاپرواہی سے کام کررہی ہے۔ یہ حکومت کسانوں کی بھرپور مدد دینے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس کی ایگزیکٹو میٹنگ میں یہ قرارداد منظور کی گئی ہے کہ ریاست میں گیلی خشک سالی کا اعلان کیا جائے، کسانوں کے مکمل قرض معاف کی جائے،شدید بارش سے ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کے لیے باغبانی اور باغات کے لیے 1.5 لاکھ روپے فی ہیکٹر اورقابل کاشت زمین کے لیے 75 ہزار روپے فی ہیکٹرمدد دی جائے۔ان قراردادوں کی بنیا پر ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسانوں کے مسائل پر فوری توجہ دے۔

ٹیچربھرتی گھوٹالہ ’ویاپم‘ کی ہی طرح ہے، تفتیش کرکے مجرموں کو سزا دی جائے

ریاست میں ٹی ای ٹی گھوٹالے پر ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ ریاست میں ٹیچر بھرتی گھوٹالہ کی جڑ اس وقت کی فڈنویس حکومت کے دور میں ہے۔ فڑنویس حکومت کے ذریعے TET کے لیے لایا گیا پرائیویٹ سسٹم بدعنوانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس وقت تلاٹھی، گرام سیوک اور زرعی معاونین کی بھرتی میں گڑبڑی ہوئی تھی۔پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے ملازمت بھرتی پروگرام روبہ عمل لانے سے امتحانات کے مراکز سے پاس کرنے تک بدعنوانی ہوئی۔ٹی ای ٹی کا مقصد ہونہار طلباء کو بطور اساتذہ بھرتی کرنا اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے لیکن پرائیویٹ سسٹم کے ذریعے جس طرح اس عمل کو لاگو کیا گیا اس سے لگتا ہے کہ ہونہار طلباء کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ریاست میں 2014 اور 2019 کے درمیان میں ہوئی ملازم بھرتی مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی شیوراج سنگھ چوہان حکومت کے دوران ’ویاپم‘ گھوٹالے کی ہی طرح ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ پورے معاملے کی مکمل جانچ کرتے ہوئے قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے اور ہونہار طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو دور کرتے ہوئے انہیں انصاف دیاجانا چاہیے۔