MPCC Urdu News 24 March 25

حکمران بی جے پی اتحاد مہاراشٹر کو طالبانی اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے کیا؟

شندے کو حکومت و محکمہ داخلہ پر اعتماد نہیں؟: ہرش وردھن سپکال

کنال کامرا نے کسی کا نام تک نہیں لیا، پھر ایکناتھ شندے کے کارکنان کو غصہ کیوں آیا؟

ناگپور تشدد کے ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلا، تو پھر تشدد بھڑکانے والے نیتیش رانے کے گھر پر بلڈوزر کب چلے گا؟

ممبئی: مشہور مزاحیہ فنکار کنال کامرا نے اپنے پروگرام میں کسی کا نام نہیں لیا، مگر ’چور کی داڑھی میں تنکا‘ کے مصداق ایکناتھ شندے کے کارکنان نے خود پر تنقید محسوس کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔ حملہ آور حکومت میں شامل پارٹی کے کارکنان ہیں، تو کیا انہیں حکومت، آئین، قانون اور داخلہ محکمہ پر اعتماد نہیں؟ انہیں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی؟ شندے سینا کے کارکنان کے اس ہنگامے کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی اتحاد مہاراشٹر کو طالبانی اسٹیٹ بنانا چاہتا ہے؟ یہ سخت سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔

گاندھی بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے کنال کامرا کے پروگرام کے دوران ایکناتھ شندے کے کارکنان کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جس اسٹوڈیو میں کنال کامرا کا پروگرام ہوا وہ ان کا ذاتی نہیں ہے، وہاں مختلف ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، جہاں ہر نظریے کے لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے وزیر آشیش شیلار کی ستائش کا پروگرام بھی اسی جگہ منعقد ہوا تھا۔

یہ اسٹوڈیو ایک مجاہد آزادی کی ملکیت ہے، جنہوں نے آزادی حاصل ہونے تک شادی نہیں کی تھی اور آزادی کے بعد شادی کی۔ یہ جگہ منافع کمانے کے لیے نہیں بلکہ فنکاروں کو اظہار خیال کے لیے دی جاتی ہے۔ مختلف فنکاروں نے یہاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اسی ثقافتی مرکز پر ایکناتھ شندے کے کارکنان نے حملہ کیا، جو کہ دراصل ایک مجاہد آزادی کی ملکیت پر حملہ ہے۔ یہ معاملہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی تک محدود نہیں بلکہ اس میں عوام کے جینے کے حق پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اس توڑ پھوڑ کے نتیجے میں اسٹوڈیو کو 25 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے، جسے حکومت کو ادا کرنا چاہیے۔ اس دوران پولیس محض تماشائی بنی رہی، جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگپور میں ہونے والے فسادات کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے فسادیوں سے نقصان کی بھرپائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تو کیا اب یہی اصول ایکناتھ شندے اور ان کے دنگائی کارکنان پر بھی لاگو ہوگا؟ اس کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔

ناگپور تشدد کے ملزم فہیم خان کے گھر پر بلڈوزر چلایا گیا، لیکن فڑنویس کابینہ کے وزیر نتیش رانے نے بھی اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں۔ تو کیا فڑنویس نتیش رانے کے گھر پر بھی بلڈوزر چلائیں گے؟ یہ سوال بھی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے حکومت سے کیا ہے۔

ناگپور تشدد کو ہوا دینے کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر ہے: نانا پٹولے

چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والے کورٹکر اور سولاپورکر پر کیا کارروائی کی گئی؟ یہ کس کے ایجنٹ ہیں؟

ممبئی: ناگپور میں ہوئے تشدد پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں جو نکات پیش کیے، ان میں ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر دیا گیا۔ کوئی بھی تشدد کی حمایت نہیں کر سکتا، لیکن یہ تشدد برپا کس نے کیا اور اس کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کچھ نہیں کہا۔ تشدد کے دوران ایک سبز چادر جلائی گئی، اس وقت پولیس موجود تھی۔ عام طور پر پولیس احتجاج کے دوران ایسے اشیاء ضبط کر لیتی ہے، مگر ناگپور پولیس نے وہ سبز چادر کیوں ضبط نہیں کی؟ اگر وہ چادر ضبط کی گئی ہوتی تو یہ واقعہ پیش ہی نہ آتا۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ ناگپور کو جلانے کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ باتیں ریاستی کانگریس کے سابق صدر اور سینئر لیڈر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

اسمبلی میں آخری ہفتے کی تجویز پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ناگپور میں جہاں تشدد ہوا، وہی علاقہ وزیر اعلیٰ فڑنویس کا بچپن کا مسکن رہا ہے۔ ناگپور شہر ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے۔ اس سے پہلے کبھی اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ تشدد کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اگر سبز چادر نہ جلائی جاتی تو تشدد ہوتا ہی نہیں، یہ ایک حقیقت ہے، اور اس پر وزیر داخلہ کو جواب دینا چاہیے۔

کامیڈین کُنال کامرا نے ایکناتھ شندے پر طنزیہ نظم لکھی، تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا، مگر پرشانت کورٹکر اور راہول سولاپورکر نے چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی، اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چھترپتی مہاراج کے نام پر ان دونوں نے نازیبا الفاظ استعمال کیے، ان پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ پرشانت کورٹکر کس کا ایجنٹ ہے؟ اس کے آئی پی ایس افسران سے کیا تعلقات ہیں؟ جیل میں قید مہیش موتیوار کی ضبط شدہ لگژری کار اس کے پاس کیسے آئی؟ راہول سولاپورکر کس کے آدمی ہیں؟ انہیں چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کا حق کس نے دیا؟ ان تلخ سوالات کو اٹھاتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اکثریتی طاقت کے بل پر جو حکومت چل رہی ہے، اسے مہاراشٹر دیکھ رہا ہے۔

نانا پٹولے نے پربھنی میں سومناتھ سوریہ ونشی کی موت کا معاملہ بھی اسمبلی میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ناگپور کے سرمائی اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ سومناتھ سوریہ ونشی کی موت دمے کے مرض کی وجہ سے ہوئی، لیکن حالیہ رپورٹ میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ مار پیٹ کے سبب ان کی موت ہوئی ہے۔ پربھنی میں پولیس لاٹھی چارج کا حکم منترالیہ سے آیا تھا یا پولیس ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے؟ حکومت کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔ بیڑ ضلع کے مساجوگ کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ اور سومناتھ سوریہ ونشی کے قتل معاملے میں وزیر اعلیٰ کو وضاحت پیش کرنی ہوگی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading