جھُڈپی جنگلات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشرقی ودربھ کے لاکھوں خاندانوں کو بے گھری اور بے زمینی کا خطرہ!

ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں مؤثر نمائندگی کرنے میں ناکام، فیصلے پر نظرِ ثانی کی عرضی دائر کی جائے ،کانگریس لیڈر نانا پٹولے کا مطالبہ

ممبئی: مشرقی ودربھ کے چھ اضلاع میں واقع جھُڈپی جنگلات کو جنگلاتی زمین قرار دینے کے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں 86 ہزار ہیکٹر اراضی ریونیو محکمے سے منتقل ہو کر جنگلاتی محکمہ کے اختیار میں چلی جائے گی۔ اس فیصلے سے ریاستی حکومت کی اس کوشش کو شدید دھچکا لگا ہے جس کے تحت وہ ان زمینوں کو ’ڈی نوٹیفائی‘ کر کے ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال میں لانا چاہتی تھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت عدالت میں مؤثر طور پر اپنی بات رکھنے میں ناکام رہی، جس کے سبب لاکھوں عام خاندان بے گھر اور بے زمین ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔

نانا پٹولے نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 12 دسمبر 1996 کے سابقہ فیصلے کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جس کے مطابق جھاڑی دار زمین کو اب جنگلاتی زمین قرار دیا گیا ہے اور یہ زمین محکمہ جنگلات کو سونپی جائے گی۔ ریاستی حکومت نے 2014 سے 2018 کے دوران متعدد سرکلر جاری کیے تھے، جن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ان زمینوں کا استعمال ممکن بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اب یہ تمام اقدامات عدالتی فیصلے کے باعث بے اثر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سی زمینیں جو ریونیو محکمہ کے تحت تھیں، ان کی نجی یا ادارہ جاتی منتقلی کی بھی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ریاست کے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) قائم کر کے اس زمین کو محکمہ جنگلات کو واپس کریں، یا اگر عوامی مفاد میں ایسا ممکن نہ ہو تو ان سے فیس وصول کی جائے۔ لیکن اس فیصلے سے سب سے زیادہ مالی بوجھ غریب عوام پر پڑے گا، جن کے لیے یہ فیس ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا اور وہ بے گھر ہو جائیں گے۔

پٹولے نے کہا کہ اگرچہ چند افراد کو اس فیصلے سے وقتی راحت ملے گی، لیکن اکثریت کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اکتوبر 1980 کے بعد جن زمینوں پر کمرشل الاٹمنٹ ہوا ہے، وہ تمام غیر قانونی قرار دیے جائیں گے اور ان پر تعمیر شدہ ہزاروں عمارتیں منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گی۔ مستقبل میں ان زمینوں کا استعمال تبدیل کرنا ناممکن ہو جائے گا، اور اگر کسی خاص صورت میں ایسا کرنا پڑا بھی تو یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی سطح پر ہوگا، ریاستی حکومت کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ منفی اثر ناگپور، بھنڈارا، گونڈیا، وردھا، چندرپور اور گڑچِرولی جیسے اضلاع پر پڑے گا، جہاں اب ترقیاتی منصوبے، صنعتی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع کا قیام عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے اور علاقہ پسماندہ رہ جائے گا۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس مسئلے پر "سہاریا کمیٹی” تشکیل دی تھی، جس نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ اگر حکومت نے اسی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں مضبوط دلائل پیش کیے ہوتے تو عوام کو یہ نقصان نہ سہنا پڑتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "سُرجاگڑ” منصوبے کے لیے جب لاکھوں درخت کاٹنے کی بات آتی ہے تو ماحولیاتی منظوری ریاستی حکومت آسانی سے حاصل کر لیتی ہے، لیکن جب بات لاکھوں غریب عوام کے مفاد کی ہو تو وہ عدالت میں ان کی نمائندگی مؤثر انداز میں نہیں کر پاتی، جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ خود اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اگر اب بھی انہوں نے بروقت سنجیدہ اقدام نہ کیا اور سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی عرضی دائر نہ کی تو انہیں مشرقی ودربھ کو ترقی سے محروم رکھنے اور لاکھوں خاندانوں کو بے گھر و بے زمین کرنے کی ذمہ داری خود اٹھانی پڑے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading