جھونپڑپٹی مکینوں کی زندگی خطرے میں، بی ایم سی صرف نوٹس دے کر فارغ!
ممبئی: گھاٹکوپر (مغرب) علاقے میں واقع وکرولی پارک سائیٹ کے پہاڑی علاقوں میں واقع جھونپڑپٹیوں کے مکین ایک بار پھر برسات کی آمد پر اپنی زندگیوں کے تحفظ کے لیے فکرمند ہیں۔ برسوں سے ان بستیوں میں قیام پذیر شہریوں کو ہر سال مانسون سے قبل بی ایم سی کی جانب سے بے دخلی کا نوٹس تھما دیا جاتا ہے، لیکن متبادل رہائش یا عارضی پناہ گاہ کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ ان ہزاروں خاندانوں کو محض کاغذی کارروائی کے ذریعے بےدخل کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟
وِکرولی پارک سائیٹ کے پہاڑی علاقوں میں واقع ورشا نگر، رام نگر، سنجے گاندھی نگر، راہُل نگر، گنیش نگر، کھنڈوبا ٹیکڑی، بھیم نگر، رام جی نگر، آزاد نگر، سونیا گاندھی نگر، پریم نگر، امبیڈکر نگر اور آنند نگر جیسی کئی جھونپڑپٹیاں ایسی ہیں جہاں لوگ کئی نسلوں سے آباد ہیں۔ ان میں بیشتر مزدور، صفائی ملازمین، ٹھیلے والے، رکشہ ڈرائیور اور دیگر محنت کش طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر سال برسات سے قبل بی ایم سی ایک رسمی نوٹس جاری کرکے اپنی فائلیں بند کر دیتی ہے، گویا انسانی جانوں کا تحفظ صرف کاغذی عمل بن کر رہ گیا ہے۔
انتظامیہ کی اس بے حسی نے ان علاقوں میں رہنے والے شہریوں میں سخت ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ان ہی بستیوں کو غیرمحفوظ قرار دیا جاتا ہے، مگر نہ ان کی بازآبادکاری کا کوئی منصوبہ بنایا جاتا ہے، نہ ہی انہیں متبادل رہائش دی جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی ایم سی کو تو ہر سال یاد آ جاتا ہے کہ یہ علاقے خطرناک ہیں، مگر یہ یاد نہیں آتا کہ ان مکینوں کو کہاں بسایا جائے گا۔بارش کے دنوں میں اکثر خبریں آتی ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں دراڑیں پڑ گئیں، زمین کھسک گئی یا جھونپڑیاں منہدم ہو گئیں، جس کے نتیجے میں جانیں ضائع ہوئیں۔ ایسے میں انتظامیہ کی طرف سے ہمیشہ ایک ہی بیان آتا ہے’ہم نے پہلے ہی نوٹس دے دی تھی‘۔ لیکن کیا نوٹس دینا ہی کافی ہے؟ کیا ریاستی مشینری کا کام محض وارننگ دینا ہے یا تحفظ فراہم کرنا بھی ہے؟
ان سوالات کو لے کر حال ہی میں نیشنلسٹ یوتھ کانگریس (شرد پوار گروپ) کے ممبئی صدر، ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے این ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر گجانن بلالے سے ملاقات کی اور ان سے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ صرف نوٹس دینا کافی نہیں، ان بستیوں کے مکینوں کو فوری طور پر مناسب متبادل رہائش دی جائے۔ انہوں نے واضح کہا کہ اگر کسی بھی حادثے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تو اس کی پوری ذمہ داری بی ایم سی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ امول ماتیلے کا کہنا ہے کہ یہ لوگ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہیں کہ انہیں ہر سال ہراساں کیا جائے۔ وہ شہری ہیں، انہیں بھی اسی طرح جینے کا حق حاصل ہے جس طرح کسی فلیٹ میں رہنے والے کو حاصل ہے۔ اگر مرکز حکومت کی پالیسیوں میں شہریوں کی بازآبادکاری کو اہمیت دی گئی ہے تو بلدیاتی سطح پر اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟
حقیقت یہ ہے کہ جھونپڑپٹی مکینوں کا مسئلہ صرف قانونی یا انتظامی نہیں، بلکہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اگر شہر کی ترقی کے نام پر انہیں بےدخل کیا جاتا ہے تو ترقی میں ان کا حصہ بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان لوگوں نے شہر کی تعمیر میں ہاتھ بٹایا ہے، اس لیے ان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ بی ایم سی اپنی آنکھیں کھولے اور محض فائلوں میں دستخط کر کے جان چھڑانے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ ان غریب شہریوں کو محفوظ، باعزت اور مستقل رہائش فراہم کرنا نہ صرف انتظامیہ کی قانونی ذمہ داری ہے بلکہ ایک انسانی فرض بھی ہے۔