دہلی میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے باعث نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی رہنما سپریہ سُلے کے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔ شرد پوار اور سپریہ سُلے کی وزیر اعظم نریندر مودی سے حالیہ ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں۔
تاہم سپریہ سُلے نے ان تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی کو این ڈی اے میں شامل ہونے کی کوئی پیشکش نہیں ملی ہے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) بدستور انڈیا اتحاد کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور این ڈی اے میں جانے کی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کاروں اور رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اگر مستقبل میں شرد پوار گروپ این ڈی اے میں شامل ہوتا ہے تو سپریہ سُلے کو مرکزی حکومت میں کوئی اہم ذمہ داری یا بڑا عہدہ مل سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اب تک نہ حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ایسی کسی پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
اس وقت دستیاب سرکاری اور مصدقہ معلومات کے مطابق:
– این ڈی اے میں شمولیت کے بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
– سپریہ سُلے نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی انڈیا اتحاد کے ساتھ برقرار ہے۔
– دہلی میں ہونے والی ملاقاتوں اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث قیاس آرائیاں ضرور جاری ہیں، لیکن "بڑے تحفے” یا کسی اہم عہدے کے بارے میں فی الحال کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں ہے۔