بدلاپور کے واقعے نے ایک بار پھر ریاست کی آبرو سرِ بازار نیلام کر دی
عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں، مہنگا پڑے گا: ہرش وردھن سپکال
دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کو ملنے والے سب سے ناکام، غیر فعال اور غیر ذمہ دار وزیر اعلیٰ، اگر ذمہ داری نہیں نبھتی تو وزارتِ داخلہ چھوڑ دیں
ممبئی: بدلاپور میں ایک کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ نہایت شرمناک اور شدید غصہ پیدا کرنے والا ہے، جس نے ایک بار پھر مہاراشٹر کی ساکھ کو مجروح کر دیا ہے۔ ریاست میں ہر طرح کے جرائم بے لگام ہو چکے ہیں اور حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے اندر مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت ہی باقی نہیں رہی۔ دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کو ملنے والے اب تک کے سب سے غیر فعال، ناکام اور غیر ذمہ دار وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سخت تنقید مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کی ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ جب چار پانچ سال کی معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پیش آ رہے ہوں تو ریاست کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور نائب وزرائے اعلیٰ کو نیند کیسے آتی ہے؟ ڈیڑھ سال قبل بدلاپور میں اسی طرح اسکولی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آیا تھا، لیکن حکومت نے اس کیس کے اہم ملزمان کو کھلا چھوڑ دیا۔ عوام کے سڑکوں پر اتر کر شدید احتجاج کرنے کے بعد حکومت وقتی طور پر چونکی تھی، مگر اس معاملے کا انجام کیا ہوا، یہ پوری ریاست نے دیکھ لیا۔ بی جے پی اور سنگھ سے وابستہ اسکول میں پیش آئے اس واقعے میں اسکول کے صدر اور سکریٹری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کیس میں اسکول کے سکریٹری تشار آپٹے کے خلاف پوکسو قانون کے تحت مقدمہ درج ہونے کے باوجود بی جے پی نے اسے نامزد کارپوریشن کونسلر بنایا۔ انتظامیہ کی یہ بے عملی مجرموں کے حوصلے بلند کر رہی ہے۔
سپکال نے خبردار کیا کہ بدلاپور میں پیش آئے تازہ جنسی زیادتی کے واقعے میں حکومت اگر فوری اور سخت کارروائی نہیں کرتی تو عوام سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون و انتظام کا مکمل جنازہ نکل چکا ہے۔ ایک وزیر بھرت گوگاولے کا بیٹا ایک معاملے میں مفرور ہے، وہ اپنے وزیر والد کے رابطے میں ہے، مگر پولیس اس تک پہنچنے میں ناکام ہے۔ ایسے وزرا حکومت میں شامل ہوں تو وزیر اعلیٰ اتنے بے بس کیوں ہیں؟ یہ سوال تو ہائی کورٹ کو بھی پوچھنا پڑ رہا ہے۔ ستارہ ضلع کے پھلٹن سب ڈویژنل اسپتال میں ڈاکٹر سمپدا منڈے کو بی جے پی کے سابق رکنِ پارلیمنٹ کی ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کرنی پڑی، لیکن اس معاملے میں بھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے تو بغیر کسی جانچ کے کلین چٹ دے دی۔ انکیتا بھنڈاری، اَناؤ ریپ کیس، خواتین پہلوانوں کے ساتھ جنسی استحصال جیسے کئی معاملات میں دہلی سے گلی تک بی جے پی سے وابستہ لوگوں کے نام سامنے آئے، مگر کارروائی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ بی جے پی مہایوتی حکومت میں اکا، کھوکھے، ریت مافیا، ڈرگس مافیا اور لینڈ مافیا کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، جبکہ خواتین اور بچیوں کی سلامتی رام بھروسے چھوڑ دی گئی ہے۔
ضلع پریشد انتخابات کے لیے کانگریس کے 40 اسٹار پرچارکوں کی فہرست جاری
ممبئی: ریاست میں ہونے والے 12 ضلع پریشد اور 125 پنچایت سمیتی انتخابات کے لیے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے اپنے 40 اسٹار پرچارکوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ کانگریس کی جانب سے جاری کی گئی اس فہرست کے مطابق پارٹی کے سینئر لیڈران، ارکانِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی اور مختلف شعبوں کے ذمہ دار ان انتخابات میں پارٹی امیدواروں کے حق میں مہم چلائیں گے۔
کانگریس کے اسٹار پرچارکوں میں مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنّیتھلا، کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، قانون ساز پارٹی کے لیڈر ایم ایل اے وجے ویڈیٹی وار، رکنِ پارلیمنٹ چھترپتی شاہو مہاراج، قانون ساز کونسل میں پارٹی کے گروپ لیڈر ایم ایل اے ستیش عرف بنٹی پاٹل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری رکنِ پارلیمنٹ مکُل واسنک، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بالاصاحب تھورات، رکنِ پارلیمنٹ رجنی تائی پاٹل، گوا کے انچارج مانیک راو ٹھاکرے و سابق ریاستی صدر نانا پٹولے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ فہرست میں اقلیتی شعبہ کے قومی صدر اور راجیہ سبھا کے رکن عمران پرتاپ گڑھی، راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے، آل انڈیا کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان، آل انڈیا کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن یشومتی ٹھاکر، رکنِ پارلیمنٹ پرنیتی شندے، ایم ایل اے امین پٹیل، سابق وزیر ڈاکٹر نتین راؤت، ایم ایل اے امیت دیشمکھ، ایم ایل اے ڈاکٹر وشوجیت کدم، انیس احمد، سابق وزیر رمیش باگوے، سابق رکنِ پارلیمنٹ حسین دلوائی، ایم ایل اے ساجد خان پٹھان، سابق وزیر وسنت پورکے، سابق ایم ایل اے دھیرج دیشمکھ، رامہری روپنور اور ایم ایم شیخ کے نام شامل ہیں۔
اس فہرست میں اقلیتی شعبہ کے صدر وجاہت مرزا، سینئر ترجمان اتل لونڈھے، ریاستی نائب صدر سدھارتھ ہٹّی امبیرے، او بی سی شعبہ کے ریاستی صدر یشپال بھنگے، مفتی ہارون ندوی، شاہ عالم شیخ، خواتین کانگریس کی ریاستی صدر سندھیاتائی سَوّالاکھے، یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیوراج مورے، سیوادل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڈے، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر ساگر سالنکھے، اکشے راؤت اور ہنومنت پوار کے نام بھی شامل ہیں۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ ان اسٹار پرچارکوں کے ذریعے ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات میں پارٹی کی پالیسیوں اور عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جائے گا۔
MPCC Urdu News 23 January 26.docx