مہاراشٹر میں کانگریس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے ’سنکلپ ابھیان‘ شروع کیا جائے گا: ایچ کے پاٹل

مرکزکے زرعی قوانین کے نفاذ کے بجائے ہم ریاست میں کسانوں کے بہبود کا قانون بنائیں گے: ناناپٹولے

بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کافیصلہ مقامی سطح پر بات چیت کے بعد ہی لیا جائے گا

ممبئی: ریاستی کانگریس کی جانب سے منعقدہ پارٹی کے پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس میں آج جہاں مرکزی حکومت کے سیاہ زرعی قوانین، مزدورقوانین، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں،ریاست کے سیاسی صورت حال، پارٹی کے تنظیمی امور کے ساتھ ہی حکومت کے کام کاج پر بھی غور وفکر کیا گیا وہیں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف پروگرام کے انعقاد کا جائزہ بھی لیا گیا جس میں ’ایک دن کسانوں کے ساتھ‘ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے نیز مہاراشٹر میں کانگریس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے ’سنکلپ ابھیان‘ شروع کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی جس کے لیے ۶ ماہ کا پروگرام آل انڈیا کانگریس پارٹی نے طئے کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نگراں ایچ کے پاٹل نے دی ہے۔

پارلیمنٹری بورڈ کے اس اجلاسکی صدارت ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے کی جبکہ ریاست کے نگراں ایچ کے پاٹل اس میں خصوصی طور پر موجود تھے۔ اس اجلاس میں وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، سابق مرکزی وزیرداخلہ سوشیل کمار شندے، وزیرتعمیرات پرتھوی راج چوہان، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان سمیت کانگریس کے وزراء، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری ونائب انچارج، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدور و سلیکشن کمیٹی کے ممبران موجود تھے۔

اس موقع پر ناناپٹولے نے کہا کہ کانگریس نے شروع سے ہی کسان مخالف سیاہ زرعی قوانین کی مخالفت کی ہے اور ان قوانین کی منسوخی تک کانگریس پارٹی کا اس کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزکے یہ سیاہ قوانین ہم ریاست میں لاگو نہیں ہونے دیں گے بلکہ ریاست میں کسانوں کی فلاح وبہبود کے امکانات پر غور وفکر وصلاح ومشورہ کے بعد ضرورت کے مطابق قانون بنائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کے بارے میں ناناپٹولے نے کہا کہ اس کا فیصلہ مقامی سطح پر صلاح ومشورہ کے بعد کیا جائے گا۔ اس میٹنگ میں چار قراردادیں منظور کی گئیں جس میں پہلی قرارداد یہ کہ مرکز کے کسان ومزدو مخالف قوانین فوری طور پررد کیا جائے۔ یہ قوانین ریاست میں لاگو نہ کیا جائے بلکہ کسانوں کی فلاح وبہبود کے لیے نیا قانون بنایا جائے۔ دوسری قرارداد یہ کہ قانونی بورڈ کو فوراً قائم کرتے ہوئے اس کے مطابق فنڈ تقسیم کیا جائے۔ تیسری قرارداد یہ کہ مراٹھا ومسلم ریزرویشن کی کانگریس پارٹی مکمل حمایت کرتی ہے۔ کسی بھی دوسرے ریزرویشن کو چھیڑے بغیر ان دونوں طبقات کو ریزوریشن ملنا چاہیے۔ چوتھی قرارداد یہ کہ پسماندہ طبقات، اقلیتوں، اوبی سی و خانہ بدوش برادری کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ریاست کے مالی بجٹ میں ان کے لیے بھرپور حصہ مختص کیا جائے نیز جو مختص کیا جائے وہ لیپس نہ ہو، اس کے لیے قوانین بنائے جائیں۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کے ریزرویشن کے معاملے کو سابق اقلیتی امور کے وزیر محمد عارف نسیم خان نے اٹھایا جس کی سابق راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی ودیگر ممبران نے بھرپور حمایت کی۔ اس موقع پر نسیم خان نے کہا کہ جب ریاست میں کانگریس واین سی پی کی حکومت تھی تو مراٹھا برداری کے ساتھ مسلمانوں کے ریزرویشن کو منظوری ان کی معاشی صورت حال کے پیشِ نظر دی گئی تھی، جسے اس کے بعد آنے والی بی جے پی کی حکومت نے منسوخ کردیا تھا۔ مگر اب جبکہ ریاست میں دوبارہ کانگریس این سی پی وشیوسینا کی حکومت قائم ہوگئی ہے تو پھرمسلمانوں کو ریزرویشن کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔ نسیم خان نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے بھی مسلمانوں کے ریزرویشن پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی مگر سابقہ حکومت نے محض تعصب کی بنیاد پر مسلمانوں کو ریزرویشن کے ان کے حق سے محروم کردیا تھا۔ نسیم خان کے اس مطالبے پر وہاں موجود تمام ممبران نے زوردار حمایت کی جس کے بعد یہ مراٹھا برادری کے ساتھ مسلمانوں کے ریزرویش کی قرارد منظور کی گئی۔ اس جلسے کی شروعات دہلی کی سرحدوں پر جاری کسانوں کے احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوئی جس میں تمام شرکاء نے ان کے لیے دو منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی۔

Maharastra Action Plan.pdf