Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

بی جے پی لیڈران کو بار بارراج بھون جانے کے بجائے اپنے لوگوں کے درمیان جاکر ان کی مدد کرنی چاہئے: بالا صاحب تھورات

IMG_20190630_195052.JPG

بی جے پی کی اس حرکت کو مہاراشٹرا کبھی فراموش نہیں کرے گا

ممبئی :مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کرونا کے بحران کا جہاں ایک جانب نہایت سنجیدگی سے مقابلہ کررہی ہے تو وہیں ریاست میں متزلزل صورت حال کی سازش رچ رہی بی جے پی کو سخت ہزیمت اٹھانی پڑرہی ہے۔ بار بار راج بھون میں جانے کی عادی بی جے پی کے لیڈران کو اپنا تھوڑا وقت اپنے حلقہ اسمبلی میںبھی جاکر گزارنا چاہیے اور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول جناب بالاصاحب تھورات نے کہی ہیں۔

تھورات نے بی جے پی کے تحریک کی خیریت دریافت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے کورونا بحران میں تمام اپوزیشن پارٹیوں سے سیاست سے بلند ہوکر تعاون کی اپیل کی تھی ، جس پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے ساتھ دیا۔ لیکن مودی کی ہی پارٹی کے ریاست کے لیڈران ان کی ہی اپیل کو ٹھوکر مارتے ہوئے سیاست کررہے ہیں۔ اقتدار ہاتھ سے جانے کے بعد سے بی جے پی کے لیڈران بری طرح بوکھلائے ہوئے ہیں اوریہ بوکھلاہٹ ان سے طرح طرح کی مضحکہ خیز حرکتیں کروارہی ہے۔

تھورات نے کہا کہ اگرریاست کی اپوزیشن کورونا بحران کے دورمیں حکومت کو کوئی تعمیری تجویز پیش کرتی ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا ، لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو وہ یہ سمجھ لیں کہ ریاست کی عوام اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈارن روزآنہ راج بھون کے چکر لگارہے ہیں۔ وہ راج بھون کو اپنے گھرکا آنگن سمجھ رہے ہیں۔ تھورات نے سوال کیا کہ چندرکانت پاٹل کا اصل آنگن کہاں ہے پونے یا کولہاپور میں؟ اسی طرح دیوندر فڈنویس کیا اپنے ناگپور گئے؟ ان کے حلقہ اسمبلی میں عوام کی خدمت کانگریس پارٹی کے کارکنان کررہے ہیں ۔ تھورات نے کہا کہ پانچ سال تک اقتدار میں رہتے ہوئے یہاں کی عوام کے ساتھ دھوکہ کرنے والے بی جے پی لیڈران ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی جو سازش رچ رہے ہیں وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اس کی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ بی جے پی کی تحریک کو عوام کا تو چھوڑیئے بی جے پی کے کارکنان کا بھی تعاون حاصل نہیں ہے۔ بیشتر مقامات پربی جے پی لیڈران نے چلچلاتی دھوپ میں چھوٹے بچوں کو جلوسوں میں شامل کرکے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کی جانب سے لگائے گئے الزامات پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تھورات نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستوں کے 50لاکھ سے زائد مزدوروں کو روزگار دینے والی ریاست مہاراشٹر کے ساتھ مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کررہی ہے۔ ٹیکس کی صورت میں مرکز کو سب سے زیادہ محصول دینے کے باوجود مہاراشٹر کو مرکزی کی جانب سے متوقع مدد نہیں مل رہی ہے۔ طبی آلات، پی پی ای کِٹ، ٹیسٹنگ کِٹ، ادویات ودیگر ضروری طبی سازوسامان کی جتنی مانگ ہوتی ہے اس میں سے محض 30لاکھ ہی فراہم کیا جارہا ہے۔تھورات نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی واپسی کی رقم، دیگر فلاحی اسکیموں کے فنڈ وجی ایس ٹی کے علاوہ دیگر محصولات کی واپسی رقم ابھی تک نہیں دی ہے۔ مرکزی حکومت نے 20لاکھ کروڑ روپئے کے جس پیکیج اعلان کیا ہے، اس میں سے 2لاکھ 10ہزار روپئے ہی خرچ کے قابل ہے ۔ اس میں سے بھی سب زیادہ حصہ منریگا کے لیے ہے۔ اس لیے میں اس میں سے کسی کو بھی براہ راست مدد نہیں ملتی ہے۔

تھورات نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ابھی تک 434ٹرینوں کے ذریعے 6لاکھ سے زائد مہاجرمزدوروں کو ان کے آبائی وطن روانہ کیا ہے۔جبکہ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے ذریعے 3لاکھ 65ہزارمزدوروں کو ریاست کے سرحدتک پہونچایا گیا ہے۔ مہاراشٹر میں مہاجرمزدوروں کی تعدا کے پیشِ نظر یومیہ 90ٹرینیں روانہ کرنے کی ضرورت ہے، مگر فی الوقت 45سے 50ٹرینیں ہی روانہ کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں 6 لاکھ غریب اورمہاجر بھائیوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ مرکز سے کہا گیا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں 8.50 کروڑ لوگوں کو گندم سپلائی کرے جنہیں راشن کے ذریعہ غلہ فراہم کیا جارہا ہے ، لیکن مرکز نے ابھی تک گندم مہیا نہیں کی ہے۔ تھورات نے کہا کہ فڈنویس کوچاہئے کہ وہ کورونا بحران کے دوران مہاراشٹر میں سیاست کرنے کے بجائے پارٹی میں اپنے قد کا استعمال کرتے ہوئے مہاراشٹر کے حصے کی امداد مرکز سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔