MPCC Urdu News 2 Sep 2024

سیلاب زدہ مراٹھواڑہ کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور فوری امداد بھیجیں: نانا پٹولے

مراٹھواڑہ کے اضلاع کے نگراں وزیر کہاں ہیں؟

فصل کے نقصانات کا تخمینہ لگائیں لیکن پہلے کسانوں کی مدد کریں!

ممبئی: مراٹھواڑہ شدید بارش کی زد میں ہے جس سے عوامی زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔ سڑکیں اور پل بہہ جانے سے مراٹھواڑہ کے کئی گاؤں کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ سیلابی پانی نے کھیتوں میں کھڑی فصلیں بہا دی ہیں جس سے خریف کی فصل بھی ضائع ہو گئی۔ سیکڑوں مویشی بہہ گئے ہیں۔ دریا اور نالے بپھر گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایونٹ بازی اور اشتہار بازی کو چھوڑ کر مراٹھواڑہ کے سیلاب زدہ لوگوں کو فوری مدد پہنچائے، یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کانگریس پردیش صدر نانا پٹولے نے کہا کہ پچھلے دو دنوں سے مراٹھواڑہ کے ناندیڑ، پربھنی، ہنگولی، بیڑ، دھاراشیو، لاتور اضلاع میں موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ ہزاروں گھروں میں بارش کا پانی داخل ہونے سے لوگوں میں افرا تفری مچ گئی ہے اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ مراٹھواڑہ کو سیلاب نے گھیر لیا ہے۔ سیلاب زدگان کو مدد کی اشد ضرورت ہے اور ریاستی حکومت کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ سیلاب زدگان کو سرکاری امداد فوری پہنچائی جائے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں ایس ڈی آر ایف/این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھیجی جائیں۔ نقصانات کے تخمینے کے احکامات جاری کیے جائیں لیکن اس سے پہلے فوری امداد کا اعلان کرکے وہ سیلاب زدگان اور متاثرہ لوگوں تک پہنچائی جائے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سیلاب زدگان کو محفوظ مقام پر منتقل کرکے ان کے لیے تمام انتظامات کیے جائیں۔ تمام سرکاری مشینری کو فوری طور پر کام پر لگا کر عوام کو سہارا دینے اور ہر طرح کی مدد پہنچانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہنگولی شہر سمیت کئی گاؤں میں پانی داخل ہو جانے سے صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیلاب زدہ علاقوں کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کے لیے فوری احکامات جاری کرے۔ اب تک اضلاع کے نگراں وزیر وہاں نہیں پہنچے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ محبوب صنعت کار اور محبوب ٹھیکیداروں کے لیے جیسے حکومت تیزی سے کام کرتی ہے اس سے بھی زیادہ تیزی سے سیلاب زدگان اور کسانوں کی مدد کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading