خواتین کو 40فیصد امیدواری دینے کا فیصلہ انقلابی ہے: ناناپٹولے
خواتین کو یکساں مواقع اور احترام دینے کی کانگریس کی روایت رہی ہے
ممبئی:آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی کی جانب سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں خواتین کو 40 فیصد امیدواری دینے کا اعلان خواتین کو مساوی مواقع اور وقار دینے کی طرف ایک انقلابی قدم ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی خواتین کو مساوی مواقع دینے کے لیے پہلے ہی کئی اہم فیصلے لے چکی ہے اور ان کو کامیابی سے نافذ بھی کر چکی ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے بھی خواتین کو جدوجہد آزادی میں شامل کیا تھا۔ آنجہانی وزیر اعظم راجیو جی گاندھی نے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا جس سے خواتین کو سیاست میں آنے کا ایک بہترین موقع ملا۔ مہاراشٹر میں کانگریس حکومت نے یہی ریزرویشن50 فیصد تک دیا۔ راجیو گاندھی نے ہی دفاعی دستوں میں خواتین کو مواقع دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ کانگریس حکومت نے ہی والدکی جائیداد میں عورتوں اور لڑکیوں کو برابر کا حصہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
پٹولے نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہی ملک کو اندرا گاندھی کے روپ میں ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم اور پرتیبھاتائی پاٹل کے روپ میں پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز دیا ہے، جس نے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔اترپردیش انتخابات میں خواتین کو 40فیصدامیدواری دینے کا فیصلہ کرکے کانگریس پارٹی نے خواتین کو سیاست میں مزید اہم موقع فراہم کیا ہے۔ اس فیصلے پر ہم آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی صدر محترمہ سونیاگاندھی وجنرل سکریٹری پرینکاگاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔