جشن عید میلادالنبی کے موقع پر خلافت کمیٹی کے جلوس سے قبل وزیر نواب ملک کااظہارخیال
ممبئی:حضور کی امن واخوت اور مساوات کی تعلیمات کی بھرپور تشہیر میں ہم مسلمان ناکام رہے ہیں،بلکہ چودہ سو سال قبل اسلام نے امیر،غریب،کالے -گورے اور اونچ نیچ کو ختم کردیا تھا،لیکن ان کاموں کے بارے میں دنیانیسن منڈیلا اور کارل مارکس کو جانتی ہے۔جوکہ انتہائی افسوس ناک پہلو ہے،ان خیالات کااظہار جشن عید میلادالنبی کے موقع پر آج یہاں خلافت کمیٹی کے جلوس سے قبل سیرت النبی کے ایک جلسہ سے خطاب کے دوران ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک نےکیا اور کہاکہ اسلام دنیا کا بہترین دین ہے ،لیکن مسلمانوں کا شمار موجودہ دور میں بدترین قوم میں ہوتا ہے جوکہ تشویشناک امر ہے۔دراصل ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور سنتوں کو عام نہیں کیا ۔ہم نے اسلامی تعلیمات کی جس طرح تشہیر کرنی چاہئے تھی نہیں کی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔
نواب ملک نے مزید کہاکہ آج دنیا میں نیلسن منڈیلا کو کالے گورے کے فرق ختم کرنے کے لیے جدوجہد کے لیے جانا جاتا ہے اور کارل مارکس کومساوات اور برابری کی تعلیمات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ "میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سوسال قبل امن وامان،اخوت اور بھائی چارگی کی تعلیم پیش ہی نہیں کی بلکہ عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا اور ریاست مدینہ کی مثال دی جاتی ہے۔یہ میری اور آپ کی ذمہ داری تھی کہ دنیا کو واقف کراتے تھے کہ اونچ نیچ ،بھید بھاؤ اور کالے گورے کے فرق کو ختم کرنے اور پسماندہ طبقات اور خواتین کے حقوق اسلامی تعلیمات کے جز ہیں۔
مذکورہ جلسہ کی صدارت خلافت کمیٹی کے چیئرمین اور سنئیر صحافی سرفرازآرزو نے کی ،اور نواب ملک بطور مہمان خصوصی شریک۔ہوئے جبکہ رضااکیڈمی۔کے صدر سعید نوری نے جلوس کی قیادت کی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں تحفظ ناموس رسالت کا بل منظور کیا جانا چاہئیے ۔تاکہ۔کسی بھی مذہب کے پیشوا اور سربراہ کی توہین نہ کی جائے۔اور بے حرمتی کرنے والے کو سخت سزادی جائے۔اس موقع پر مقامی ایم ایل اے آمین پٹیل،رئیس شیخ،ڈاکٹر پاٹنکر اور صرف پچاس شرکاء موجود تھے۔پولیس کے سخت بندوبستی میں پانچ ٹرک پر مشتمل جن۔میں پانچ پانچ افراد سوار تھے ،جلوس مسلم۔اکثریتی علاقوں۔میں گشت کرتے ہوئے جنوبی ممبئی میں حج ہاوس پر ختم۔ہوا۔نواب ملک بائیکلہ تک قیادت کے بعد روانہ ہوگئے۔گزشتہ سال جلوس کی اجازت نہیں ملی تھی ،اس لیے امسال مسلمانوں میں جوش وخروش زیادہ نظرآیا۔