نفرت وتشدد کے اس ماحول میں پیغمبرِ اسلام کے پیغام کوعام کرنے کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے: سشیل کمار شندے
جب تک ہم نبی کے اسوہ کو اپنے لئے نمونہئ عمل نہیں بنائیں گے کامیاب نہیں ہوسکیں گے: علامہ سید محمد سلمان اشرف
تباہی برپاکرنے اوردھماکہ کرنے والے نبی کے ماننے والے ہرگزنہیں ہوسکتے: نسیم خان
کورونا کی ہدایات کی پابندی کے ساتھ نسیم خان کی صدارت میں گھاٹکوپر میں مرکزی عید میلادالنبی کمیٹی کے جلسے وجلوس کا کامیاب انعقاد
ممبئی: سرکارِ دوعالم، رحمۃ اللعالمین، نبیئ آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ولادتِ مبارک کے موقع پر آج مرکزی عیدمیلادالنبی کمیٹی گھاٹکوپر کے زیراہتمام نکلنے والے جلوس عیدمیلادالنبی میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک سابق مرکزی وزیرداخلہ ومہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ سشیل کمار شندے نے جلوس سے قبل منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیغمرِ آخرالزماں کی انسانیت واخوت کے پیغام کو اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نفرت وتشدد کے اس ماحول میں آج اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم پیغمبر کے پیغام کو دنیا کے سامنے مضبوطی کے ساتھ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج پیغمبرِ اسلام کی پیدائش کی خوشی موقع پر ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پیغمبر نے ہمیں جوانسانیت اور اخوت ومحبت کا جوپیغام دیا تھا کہیں ہم اسے بھول تو نہیں گئے ہیں۔ کیونکہ آج جس طرح ہر جانب فرقہ پرستی کا بازار گرم کیا جارہا ہے، پیغمبرِ اسلام کی محبت واخوت کے پیغام کی سخت ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیغمبرِ اسلام کا پیغام کسی ایک خاص مذہب کے ماننے والوں یا کسی ایک مخصوص علاقے کے رہنے والوں کے لئے نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے ہے۔ 632عیسوی میں وہ ہمارے درمیان سے چلے گئے لیکن میں اسے نہیں مانتا۔ میں انہیں آج بھی اپنے درمیان پاتا ہوں اور جب بھی میں سماج میں بڑھتی دشمنی ومنافرت کا مشاہدہ کرتا ہوں مجھے پیغمبر کا پیغام یاد آجاتا ہے۔سشیل کمار شندے نے سرکارِدوعالم کے ہجرت کے واقعے کے حوالے سے کہا کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے بے انتہا مصائب وتکالیف برداشت کیں لیکن اس کے باوجود وہ کبھی اپنے پیغام اور اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔وہ شانتی اور امن کا سندیش دیتے رہے اور دنیانے دیکھا کہ جسے مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا تھا وہی مکہ میں ایک دن بڑے شان سے داخل ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں مصائب ومشکلات سے گھبرائے بغیر اپنے مقصد میں سچائی کے ساتھ لگے رہنا ہے اورانت میں جیت سچائی اور محبت کی ہی ہوگی۔
جلوس کی قیادت کے لئے امیٹھی کے جائس سے تشریف لائے غازیئ اسلام، حضرت علامہ سید محمد سلمان اشرف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنے،پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کے ساتھ اپنے کردار واخلاق کو اسوہئ رسول کے مطابق اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ عیدمیلادالنبی کے موقع جشن منانا آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے اظہارِ محبت کی علامت ضرور ہے، مگر اسی کے ساتھ اظہارِ محبت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کے لئے آقاعلیہ الصلاۃ والسلام کورول ماڈل بنائیں کیونکہ قرآن نے کہا ہے کہ تمہارے لئے رسول کا اسوہ بہترین نمونہئ عمل ہے۔ علامہسید محمد سلمان اشرف نے مزید کہا کہ ہمارے نبی نے دنیا کے سامنے سچائی وانصاف کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا اور نبوت کے اعلان سے قبل40سال تک وہ لوگوں کے سامنے اپنے امین وصادق ہونے کے کرادر کو پیش کرتے رہے۔ نبوت کے اعلان کے بعد محض 23سال کی زندگی میں ہمارے نبی نے دنیا کے سامنے ایک ایسا انقلاب پیش کیا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ موصوف نے کعبہ کی تعمیر کے موقع پرحجرِ اسود کی تنصیب کے دوران سرداران کے درمیان پیدا ہوئے تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی نے اس تنازعے کا حل یوں فرمایا کہ اپنی چادر میں حجرِ اسود رکھا اور سرداران سے کہا کہ چادر کا ایک ایک کونہ پکڑ لیں جس کے بعد تنازعہ خودبخود حل ہوگیا۔ آج بھی اگر ہمیں اپنے تنازعات کو حل کرنا ہے تو ہمیں نبی کی چادر کا کونہ پکڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے درمیان پائے جانے والے ٹکراؤ کودور کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ کہیں ہم سے رسول کی چادر کا کونہ چھوٹ تو نہیں گیا ہے۔قائدجلوس نے مزید کہا کہ جب ہمارے درمیان یہ تصور پیدا ہوجاتا ہے کہ سب کچھ میرا ہے تو ہی تنازعہ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اسی لئے تنازعہ ہے کہ کچھ لوگ اسے اپنا سمجھنے لگے ہیں جبکہ یہ ملک کسی ایک کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ یہ ملک مہان اسی لئے ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے، مختلف زبانوں کے بولنے والے اور مختلف طبقوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ جس دن یہ ختم ہوجائے گا، اس دن ہمارے ملک کی مہانتا بھی ختم ہوجائے گی۔
جلسے کی صدارت کررہے سابق اقلیتی امور کے کابینی وزیر محمد عارف نسیم خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے نبی کے اخلاق وکردارکو دیکھ کر آج دنیا انگشت بدنداں ہے کہ آج دنیا جس کو ضروری قرار دے رہی ہے وہ ہمارے نبی نے ساڑھے چودہ سال قبل ہی دنیا کو دے چکے تھے۔ اقوامِ متحدہ میں آج تعلیم سب کے لئے ضروری قرار دی جارہی ہے اور اس کے لئے قراردادیں پاس کی جارہی ہیں لیکن ہمارے نبی نے بہت پہلے ہی ہر شخص کے لئے تعلیم کو لازم قراردے چکے ہیں۔ نسیم خان نے دنیا میں بھوک وافلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی کا یہ پیغام آج دنیابھر میں اپنایا جارہا ہے کہ بھوکوں کو کھان کھلانا چاہئے۔ہمارے نبی نے نہ صرف بھوکوں کو کھاناکھلانے بلکہ مریضوں کی عیادت اور یہاں تک کہ راستے میں پڑے پتھروں کو بھی ہٹادینے کا حکم دیا تاکہ کسی کوتکلیف نہ ہو۔نسیم خان نے کہا کہ آج دنیا بھر میں تباہی کی تصویر نظرآرہی ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ فلاں مسجد میں دھماکہ ہوا فلاں درگاہ میں دھماکہ ہوا، یہ دھماکہ کرنے والے نبی کے ماننے والے ہرگزنہیں ہوسکتے کیونکہ نبی نے دوسروں کی زندگیوں کو بچانے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نبی کے اسوہ کو اپنالیں تو اچھے دن کا خواب دکھاکر اقتدرامیں آنے والے، ایک راشٹر کی بات کرنے والے نفرت پھیلانے والے زیادہ دن نہیں ٹھہرسکتے۔ نسیم خان نے اس موقع پر سشیل کمار شندے کے بارے میں کہاکہ میرے ایک بار یہ کہنے پر کہ 1992-93کے بہت سے متاثرین کو معاضہ نہیں ملا ہے، انہوں نے فوری طور سکریٹری کو حکم دیا کہ جن لوگوں کومعاوضہ نہیں ملا ہے، ان تمام لوگوں کو پندہ دنوں کے اندر معاوضہ دیدیا جائے۔
اس جلسے میں چراغ نگر جامع مسجد کے نائب امام مولانا انس رضا نے نعت پاک پیش کی جبکہ مرکزی عیدمیلادالنبی کمیٹی کے جنرل سکریٹری الطاف حسین نے اس کی نظامت کی۔اس جلسے کے شریف خان، چراغ نگر جامع مسجد کے امام مولانا اظہار برکاتی، مولانا رجب علی وغیرہ نے شرکت کی جبکہ اس کے انعقاد میں عالم سر، خلیل کھوت، اویس خان، مولانا مختارحمیدی،محمد سلیم شیخ، حاجی مختار اور شہاب الدین وغیرہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ واضح رہے کہ یہ مضافات کا عظیم الشان جلوس ہے جس کی ابتداء ۳۵۹۱سے ہوئی تھی اور اس وقت سے ابھی تک یہ نہایت تزک واحتشا م وجوش وخروش کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔کووڈ کی ہدایا ت کے پیشِ نظر اس بار اس جلوس میں محض پانچ گاڑیوں اور 25/افراد کی ہی شرکت کی اجازت تھی، لیکن سوشل ڈیسٹنگ کا لحاظ کرتے ہوئے ہزاروں لوگ اس میں پیدل شریک ہوئے۔یہ جلوس اپنے تمام راستوں سے نہایت پرامن طریقے سے نعرہئ رسالت بلند کرتا ہوا گزرا۔