رونا نہیں، لڑنا ہے، کانگریس کے نظریات گھر گھر پہنچا کر اقتدار حاصل کریں گے اور کانگریس کا وزیر اعلیٰ بنائیں گے: ہرش وردھن سپکال
عوام کے مسائل حل کریں، مہاراشٹر میں کانگریس دوبارہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی: نانا پٹولے
ہزاروں کارکنان کی موجودگی میں کانگریس کے نو منتخب ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی عہدہ سنبھالنے کی تقریب کا شاندار انعقاد
ممبئی: کانگریس کے نو منتخب ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کا عہدہ سنبھالنے کی تقریب جنوبی ممبئی کے برلا ماتوشری ہال میں شاندار طریقے سے منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں کارکنان کی موجودگی میں انہوں نے ریاست میں پارٹی کو دوبارہ مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی کو مضبوط کیا جائے اور ہر کارکن کو جوڑ کر پارٹی کو فعال بنایا جائے۔ کیونکہ اب رونے کا وقت نہیں بلکہ لڑنے کا وقت ہے، ہمیں سڑکوں پر اتر کر سخت جدوجہد کرنی ہوگی۔
اس تقریب میں ریاستی کانگریس کے انچارج رمیش چینیتھلا، اسمبلی میں پارٹی لیڈر وجے وڈیٹی وار، سابق وزرائے اعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور سشیل کمار شندے، سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات، گوا کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، ممبئی کانگریس کی صدر و رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان، رکن راجیہ سبھا چندر کانت ہنڈورے، سینئر لیڈر شیواجی راؤ موگھے، سابق وزراء امیت دیشمکھ، یشومتی ٹھاکر، اسلم شیخ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری و معاون انچارج بی ایم سندیپ، کنال چودھری، بی وی وینکٹیش، ریاستی کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے، کنال پاٹل، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، گنیش پاٹل اور چیف ترجمان اتل لونڈھے سمیت متعدد اہم لیڈران موجود تھے۔
رمیش چینیتھلا نے اس موقع پر کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور ریاست میں سب سے بڑی پارٹی بنی تھی، لیکن اسمبلی انتخابات میں کامیابی نہیں ملی کیونکہ مخالفین نے ووٹوں کی چوری کرلی۔ اب پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے پر توجہ دی جائے گی اور بلدیاتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے نانا پٹولے کی قیادت میں گزشتہ چار برسوں کے دوران پارٹی کے اچھے کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں مہاراشٹر میں کانگریس مزید مضبوط ہوگی۔
عہدے کا چارج حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں ہرش وردھن سپکال نے پرجوش انداز میں کہا کہ ’سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘۔ انہوں نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خود مضبوط نہیں تھی، اسی لیے اس نے شیوسینا اور این سی پی کو توڑ کر اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش کی۔ کانگریس کے رہنماؤں کو بھی بی جے پی میں شامل کیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پارٹی کو مضبوط کیا جائے اور ہر کارکن کو جوڑ کر پارٹی کو فعال بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب رونے کا وقت نہیں بلکہ لڑنے کا وقت ہے، اور ہمیں سڑکوں پر اتر کر سخت جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاست میں کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط کریں گے اور پارٹی کے نظریات کو ہر گھر تک پہنچائیں گے، تاکہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی حکومت قائم ہو اور ریاست کا وزیر اعلیٰ کانگریس سے ہو۔
اسمبلی میں پارٹی لیڈر وجے وڈیٹی وار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2014 میں نریندر مودی کی لہر میں بھی کانگریس نے 42 نشستیں حاصل کی تھیں اور 2019 میں انتہائی مشکل حالات کے باوجود 44 سیٹیں جیتی تھیں، جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بڑی کامیابی ملی، لیکن اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر سخت محنت کرنا ہوگی، کیونکہ لڑنے کا جذبہ تعداد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کانگریس کو ناقابل شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کبھی ختم نہیں ہوسکتی اور چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو مہاراج، جیوتی با پھلے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے اسے دوبارہ مضبوط کیا جائے گا۔
کانگریس کے سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات نے کہا کہ ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے پارٹی کو دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے سپکال کو ایک محنتی اور ہر وقت کارکنوں کے لیے دستیاب رہنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گجرات میں پارٹی کے لیے بڑی محنت کی اور وہاں کامیابی حاصل کی، جبکہ مدھیہ پردیش میں بھی انہوں نے پارٹی کو بہتر پوزیشن میں پہنچایا۔
نانا پٹولے نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے اپنی چار سالہ مدت میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور ضمنی انتخابات سمیت کئی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 80 سے 85 نشستیں جیتنے کی امید تھی، لیکن بی جے پی نے ووٹوں میں دھاندلی کرکے اقتدار حاصل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن ووٹنگ میں اضافہ کیسے ہوا اس کا جواب الیکشن کمیشن بھی نہیں دے سکا۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور عوام کے مسائل حل کرکے پارٹی کو دوبارہ ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بنائیں۔
اس موقع پر سابق وزرائے اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، سشیل کمار شندے، سابق وزراء امیت دیشمکھ، وسنت پورکے، نسیم خان اور ورشا گائیکواڑ نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت ریاستی کارگزار صدر کونال پاٹل نے کی۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل ہرش وردھن سپکال نے گیٹ وے آف انڈیا پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کیے، اس کے بعد ہتاتما چوک پر جا کر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے منی بھون کا بھی دورہ کیا اور پھر دادر میں چیتیہ بھومی جاکر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دوپہر میں وہ تلک بھون پہنچے، جہاں انہوں نے سبکدوش ہونے والے ریاستی صدر نانا پٹولے سے عہدے کا چارج لیا۔