مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف تحریک ملک کو راہ دکھانے والی ہے: ایچ کے پاٹل
اندراگاندھی کے سبزانقلاب کو ختم کرنے والے قوانین ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے: بالاصاحب تھورات
زرعی قوانین کے خلاف مہاراشٹر سے 60لاکھ دستخط شدہ میمورنڈم دہلی روانہ
ممبئی: مرکز کی بی جے پی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف جاری کانگریس کی مہم کے تحت آج ریاستی کانگریس نے 60لاکھ دستخط شدہ میمورنڈم دہلی روانہ کیا ہے۔ یہ تمام دستخط کانگریس کے صدردفتر تلک بھون دادر میں ریاستی کانگریس کے صدر بالاصاحب تھورات نے ریاستی کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل کے سپرد کئے جنہیں وہ دہلی روانہ کریں گے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کی کانگریس کی جانب سے سخت مخالفت کی جارہی ہے اور اسی احتجاجی تحریک کے تحت ریاست بھرسے 60لاکھ لوگوں کے دستخط جمع کیے گئے ہیں۔
تلک بھون دادر میں اس موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں ایچ کے پاٹل نے کہا کہ زرعی قوانین کے خلاف اس دستخطی مہم میں لوگوں کی بھرپور شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کی نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورا ملک مخالف ہے۔ اس سے قبل کسی تحریک میں لوگوں نے اتنے بڑی تعداد میں دستخطی مہم میں حصہ نہیں لیا۔ بی جے پی کے زرعی قوانین کے خلاف مہاراشٹر کی جدوجہد پورے ملک کو راہ دکھانے والی قرار پائے گی۔ ایچ کے پاٹل نے کہاکہ زرعی قوانین کے خلاف مہاراشٹر میں کانگریس کی تحریک نہایت کامیابی سے جاری ہے۔ 50لاکھ کسانوں نے اس تحریک کے تحت کانگریس کی مہا ورچیوئیل ریلی، ٹریکٹر ریلی، احتجاج ومظاہرے میں شرکت کرتے ہوئے ان قوانین کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ دستخطی مہم کے تحت 50لاکھ دستخط جمع کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔اس مہم کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسانوں ومزدوروں کو تباہی کے دہانے پر پہونچانے والے یہ ظالمانہ قوانین منسوخ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر نے ہمیشہ ملک کو راہ دکھائی ہے۔ اس بار بھی مہاراشٹر حکومت پنجاب سے بہتر زرعی قانون بناکر کسانوں کے مفاد کا تحفظ کرے۔ مہاراشٹر میں بالاصاحب تھورات کی قیادت کانگریس نے تمام تحریکوں کو کامیابی سے چلایا ہے۔ کانگریس پارٹی کسانوں کے مفاد کے لیے پابندعہد ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ اندراگاندھی کی قیادت میں ملک میں سبزانقلاب آیا اور زرعی شعبے خاطرخواہ تبدیلی آئی۔ لیکن مرکز کی موجودہ بی جے پی حکومت نے کسانوں کو تباہی کے دہانے پر پہونچانے کی پالیسی اپنالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سیاہ قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس نے ایک بڑی تحریک شروع کی ہے اور مہاراشٹر میں بھی اسے بھرپور طریقے سے چلائی ہے۔ کورونا،بے موسم بارش وسیلاب کے باوجود کسان و مزدور نے بڑے پیمانے پر اس تحریک میں شامل ہوئے۔ ریاست کے 60لاکھ کسانوں کے دستخط شدہ میمورنڈم آج ہم ریاستی کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل کے ذریعے کانگریس کی سربراہ محترمہ سونیاگاندھی کے پاس بھیج رہے ہیں۔ ملک بھر سے کسانوں کے دستخط شدہ میمورنڈم 19اکتوبر کو محترمہ سونیاگاندھی کی قیادت میں صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کو سونپا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ سیاہ قوانین منسوخ نہیں ہوجاتے اس وقت ہماری یہ تحریک جاری رہے گی۔
ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ مرکزکی بی جے پی حکومت نے آئین، پارلیمانی اصول وروایت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، کسی بحث کے بغیر کسانوں ومزدوروں سے متعلق بل منظور کرتے ہوئے اسے نافذ کردیا ہے۔ کانگریس اس بل کی ابتداء سے ہی مخالفت کررہی ہے اور اسی مخالفت کے تحت کسانوں ومزدوورں کی حمایت کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ہدایت کے مطابق ممبئی کانگریس نے ممبئی کے ہربلاک وعلاقے میں دستخطی مہم شروع کی جس میں ممبئی کے لوگوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
تلک بھون میں منعقدہ اس پروگرام میں مہاراشٹر کے نگراں ایچ کے پاٹل، ریاستی کانگریس کے صدر بالاصاحب تھورات اور ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ کے علاوہ وزیرتوانائی ڈاکٹر نتن راؤت، طبی تعلیم کے وزیر امیت دیشمکھ، ممبئی کے نگراں وزیر اسلم شیخ، سابق وزیر عارف نسیم خان، سابق ممبرپارلیمنٹ حسین دلوائی، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر سید مظفر حسین، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سونل پٹیل، ڈاکٹروامسی ریڈی، بی ایم سندیپ، سمپت کمار، آشیش دووا، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ایم ایل اے امین پٹیل، ایم ایل اے ذیشان صدیقی، جنرل سکریٹری سابق ایم ایل اے موہن جوشی، سچن ساونت، یوسف ابراہانی، ڈاکٹر سید ذیشان احمد، ابراہیم بھائی جان، راجیش شرما، سکریٹری راجارام دیشکھ، جوجوتھامس اور میہول وہراموجود تھے۔