MPCC Urdu News 17 March 25

کیا بجرنگ دل اور وی ایچ پی ظالم انگریزوں کے حامیوں کی یادگاریں گرانے کی ہمت کریں گے؟: ہرش وردھن سپکال

بی جے پی لیڈروں نے دیویندر فڑنویس کا موازنہ اورنگزیب سے کیا، میں نے صرف طرزِ حکمرانی کا مسئلہ اٹھایا ہے

ممبئی: مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر ہریش وردھن سپکال نے کہا کہ موجودہ حکومت جس ظالمانہ طریقے سے حکومت کا نظام چلا رہی ہے، وہ انتہائی ناقص ہے۔ بیڑ کے ماساجوگ گاؤں میں سنتوش دیشمکھ کے وحشیانہ قتل، پونے کے سوار گیٹ عصمت دری کیس، ریاست میں کسانوں کی بڑھتی ہوئی خودکشی اور خواتین پر مظالم جیسے واقعات فڑنویس حکومت کے طرزِ حکمرانی کو اورنگزیب کے طرزِ حکومت سے مشابہ بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ موازنہ دو افراد کا نہیں بلکہ دو حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی کا ہے، مگر بی جے پی رہنما اسے غلط رخ دے رہے ہیں اور خود ہی دیویندر فڑنویس کا موازنہ اورنگزیب سے کر رہے ہیں۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اورنگزیب پر بات کرنے سے آخر بی جے پی رہنماؤں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہ تو انہوں نے دیویندر فڑنویس کا نام لیا اور نہ ہی نازیبا زبان استعمال کی، مگر پھر بھی بی جے پی رہنما نچلی سطح پر ان پر تنقیدیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رتناگیری اور بیڑ میں سدبھاؤنا یاترا کے دوران بھی انہوں نے یہی سوالات اٹھائے تھے اور ریاست کے ناقص نظم و نسق کو اجاگر کیا تھا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر چندرشیکھر باونکولے کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے سپکال نے کہا کہ فڑنویس حکومت کی تنقید سے مراٹھی شناخت کو کس طرح نقصان پہنچتا ہے؟ انہوں نے مزید استفسار کیا کہ جب چھترپتی شیواجی مہاراج اور سنبھاجی مہاراج کی توہین کی جاتی ہے، تو کیا وہ مراٹھی شناخت کے لیے نقصان دہ نہیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی رہنما ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ غیر ضروری معاملات کو اچھال کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ماساجوگ کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل کے واقعے پر بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دیشمکھ بی جے پی کے بوتھ صدر تھے، مگر ان کے قتل کے بعد بی جے پی قیادت ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے بھی نہیں گئی، جبکہ کانگریس پارٹی نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی بلکہ انصاف کے لیے سدبھاؤنا یاترا بھی نکالی۔

ہرش ودرھن سپکال نے کہا کہ وہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، مگر باونکولے اور نرائن رانے نے انتہائی نچلی سطح پر جا کر ان پر تنقیدیں کی ہیں، جس سے بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ تاریخ اور شیواجی مہاراج کی وراثت کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اورنگزیب ایک ظالم حکمران تھا، تو انگریز بھی کسی سے کم نہ تھے۔ ایسے میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے رہنما ان اداروں، تنظیموں اور شخصیات کی یادگاروں، مجسموں اور اداروں کو توڑنے کی ہمت کریں گے جنہوں نے برطانوی حکومت کی مدد کی تھی؟ کانگریس کے ریاستی صدر ہریش وردھن سپکال نے یہ سوال ہندوتوا تنظیموں کے رہنماؤں کے سامنے رکھتے ہوئے ان کے دوہرے رویے کو بے نقاب کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading