ممبئی/دہلی: غیر حیاتیاتی وزیر اعظم نے 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم کا اعلان حسب معمول خوب دھوم دھام سے کیا تھا۔ نریندر مودی نے اس وقت چار اہداف مقرر کیے تھے، لیکن دس سالوں میں اس اسکیم کی دھجیاں اڑ گئیں۔ گزشتہ دہائی میں اقتصادی پالیسی سازی مستحکم اور بصیرت پر مبنی نہیں رہی۔ خوف اور غیر یقینی کی فضا نے نجی سرمایہ کاری کی ترقی میں رکاوٹ بن گئی۔ سابق مرکزی وزیر اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین جے رام رمیش نے کہا ہے کہ نریندر مودی کے قریبی ایک یا دو بڑے صنعتی گروپوں کی حمایت کی وجہ سے یہ مقابلہ ختم سا ہو گیا ہے اور ’میک ان انڈیا‘ صرف ’فیک ان انڈیا‘ بن کر رہ گیا ہے۔
جے رام رمیش نے مودی حکومت کے ’میک ان انڈیا‘ کی قلعی اتارتے ہوئے اس کی ناکامی کو ثبوت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق مودی کا پہلا جملہ ہندوستانی صنعت کی شرح نمو کو 12 سے 14 فیصد سالانہ تک بڑھانا تھا، جبکہ اصل تصویر یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سالانہ ترقی 2014 سے تقریباً 5.2 فیصد رہی ہے۔ دوسرا جملہ 2022 تک 100 ملین تک صنعتی ملازمتیں پیدا کرنا تھا لیکن مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کارکنوں کی تعداد 2017 میں 51.3 ملین ہی رہی اور 2022-23 میں 35.65 ملین ہو گئی ہے۔ تیسرا جملہ 2022 سے 2025 تک جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا حصہ بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن 2011-12 میں ہندوستان کی مجموعی ویلیو ایڈیڈ پروڈکٹ (جی وی اے) میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا حصہ
18.1 فیصد تھا جو 2022-23 میں کم ہو کر 14.3 فیصد رہ گیا ہے۔چوتھا جملہ چین کو پیچھے چھوڑ کر بھارت کو دنیا کا نیا کارخانہ بنانا اور ہندوستان کو مینوفیکچرنگ میں ایک اہم مقام پر لے جانا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں چین کا غلبہ ہونے کے بجائے ہم معاشی طور پر ان پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ 2014 میں چین سے درآمدات کا حصہ 11 فیصد تھا اور گزشتہ چند سالوں میں بڑھ کر 15 فیصد ہو گیا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ تقریباً سبھی اسکیمیں ناکام ہو چکی ہیں۔