کانگریس کا فڈنویس کی رہائش گاہ پراحتجاج، مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ
یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مودی معافی نہیں مانگتے: ناناپٹولے
ممبئی:وزیراعظم نریندرمودی سے معافی مانگنے کامطالبہ کرتے ہوئے ریاستی کانگریس نے اپنے ریاست گیر احتجاج کے تحت کل حزبِ مخالف دیویندر فڈنویس کی سرکاری رہائش گاہ ’ساگر‘ کے سامنے زبردست مگر پرامن احتجاج کیا۔ کانگریس کے اس پرامن احتجاج کے خلاف بی جے پی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور غنڈہ گردی کرتے ہوئے ممبئی والوں کو دھمکیاں دیں جس سے لوگوں کودشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔عوام کی ان دشواریوں کے پیشِ نظر ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے فوری طور پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے بی جے پی کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی مہاراشٹر کے لوگوں سے معافی نہیں مانگتے، کانگریس کا یہ احتجاج جاری رہے گا۔
اس احتجاج کے دوران نانا پٹولے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے مہاراشٹر پر ملک میں کورونا پھیلانے کا الزام لگا کر چھترپتی شیواجی کے مہاراشٹر کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس وزیراعظم مودی سے ان کے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ اس کے تحت اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کی سرکاری رہائش گاہ پرمظاہرہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس مظاہرے میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران اور کارکنان بشمول ریاستی صدر کے حصہ لیا۔ پولس کے ذریعہ سڑک بلاک کئے جانے کے بعد پٹولے نے اپنے ساتھی کارکنوں کے ساتھ اسی جگہ پر احتجاج کیا۔ ریاستی جنرل سکریٹری اتل لونڈھے نے گوریلا انداز میں فڈنویس کے بنگلے پردھاوابولتے ہوئے مہاراشٹر مخالف وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی لیڈروں کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔اس مظاہرے میں کانگریس کے کارکنان نے بڑی تعداد میں حصہ لیا جبکہ وارکری پریشد کے ممبران بھی وٹھل پاٹل کی قیادت میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مہاراشٹر کی ثقافت اور شیواجی مہاراج کے نظریے کی توہین کی ہے۔ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ ریاست کے بی جے پی لیڈروں نے پی ایم مودی کی حمایت کی ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مودی مہاراشٹر کے لوگوں سے معافی مانگیں، اس کے لیے ہم نے ممبئی میں تحریک چلائی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ کانگریس تشدد میں یقین نہیں رکھتی، لہذا عام لوگوں کی پریشانیوں اور بی جے پی کارکنان کی غنڈہ گردی کے بعد شہر کی امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اس تحریک کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کی طرح غنڈہ گردی کی سیاست کر سکتے ہیں لیکن یہ ہمارا کلچر نہیں ہے۔ ہم عوام تک پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی نے اپنی غنڈہ گردی سے ممبئی اور مہاراشٹر کو اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کا رویہ ایسا ہے کہ اگر مودی کی وجہ سے مہاراشٹر برباد ہو جائے تو بھی وہ مودی کا ساتھ دینا بند نہیں کریں گے۔ نریندر مودی بی جے پی کے لیے ملک سے بڑے ہو سکتے ہیں اور مودی دیویندر فڈنویس کے لیے مہاراشٹر سے بڑے ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارے لیے ملک اور مہاراشٹر کی عزت نفس اور شناخت زیادہ اہم ہے۔ پٹولے نے کہا کہ آج کے احتجاج میں کے خلاف میں بی جے پی نے کرائے کے لوگوں کو سڑکوں پر اتارا اور انہیں غنڈہ گردی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی وجہ سے ہی ممبئی کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے۔ پٹولے نے کہا کہ ممبئی کے لوگوں کو کانگریس کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے لیے ہم نے تحریک کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا لیکن ہمارا یہ احتجاج مودی کے معافی مانگنے تک جاری رہے گا۔
بی جے پی کے ایم ایل اے پرساد لاڈ نے نہایت گھٹیا زبان کا استعمال کرتے ہوئے کانگریسی لیڈروں کو فڈنویس کے بنگلے پر آنے کے لئے چیلنج کیاتھا۔ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے گوریلا انداز میں فڈنویس کی رہائش گاہ پر براہ راست دھاوابول دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار نہیں بلکہ بار بار مہاراشٹر کے غداروں کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے۔ لونڈھے نے کہا کہ پرساد لاڈ نے کانگریسی لیڈران کو یہاں آنے کے لئے چیلنج کررہے تھے لیکن اب جب ہم یہاں آگئے ہیں تو لاڈ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔کانگریس کی جانب اس احتجاج میں ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، ریاستی ورکنگ صدر چندرکانت ہنڈورے، سنجے راٹھور، پارٹی کے تنظیمی امور کے ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار، پرمود مورے، راجیش شرما، مدن جادھو، این ایس یو آئی کے سندیپ پانڈے اور راکیش پاٹل شامل شامل تھے جبکہ دیگر کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔