عقیدے اور شناخت کی جنگ

✍️:پرویز نادر
ہندوستانی مسلمان یوں تو عقیدے کی جنگ اسی روز ہار چکا تھا جب بابری مسجد کا فیصلہ مندر کے حق میں آیا تھا،بہ حیثیت مجموعی سارے ہندوستانی مسلمان مجرم ہیں، اس لیے نہیں کہ بابری مسجد کا فیصلہ مندر کے حق میں آیا بلکہ اس لیے کہ مسلمانوں نے اس فیصلے کو قبول کر لیا،اور بھائی چارے کا حق ادا کرنے میں مںسجد کو چارہ بنالیا،اور عدالت کے فیصلے کے احترام میں اللہ کے گھر کو قربان کردیا،بابری مسجد ایک ایسی آہنی دیوار اور مضبوط فصیل تھی جس کے ڈھانے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں پر ذلت و نکبت کا ایسا دور شروع ہوا کہ ان کی شناخت، تہذیبی ورثہ، اور ہر اس چیز کو مٹانے کی کوشش شروع ہوگئی جو مسلمانوں سے نسبت رکھتی ہے،میں اپنی کم علمی اور قلم کی گستاخانہ حرکت پر تمام مسلمانوں اور بالخصوص ملی و دینی قیادتوں سے معافی چاہوں گا کہ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے ہم اپنے حقوق کے لیے بڑے ڈھیٹ ثابت ہوئے ہیں جب بات عقیدہ اور شعائراللہ یا اسلامی شناخت کی آتی ہے تو ہم  بڑے صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جب بات اپنے وجود کی آتی ہے تو ہم سے زیادہ جذباتی قوم شاید ہی دنیا میں کوئی پائی جاتی ہو،احتجاج، شور شرابہ یہاں تک کہ جان کی بازی تک لگا  بیٹھتے ہیں جس کی تازہ مثال سی اے اے اور این آر سی بل مخالف احتجاج ہے۔

ہندوستان سے اپنی نسبت اور یہاں کی شہریت ثابت کرنے کے لیے ہم نے کیا کچھ نا کیا،بحرحال،اگر انسان کا عقیدہ ہی سلامت نا رہے تو وہ کسی کی بھی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور غلامانہ زندگی گزار سکتا ہے، ہندوستانی فسطائیت کو اور چاہیے ہی کیا اگر کوئی دھرم پریورطن کے نام پر اپنے عقیدے کا سودہ کرلے تو وہ یہاں سے کیوں ہکالا جائے گا،اگر اس ملک سے جانا ہے تو اسلامی شناخت کے ساتھ اور اگر یہاں رہنا ہے تو اسلامی شناخت کے ساتھ، یہ ہے اپنے حقوق کی اصلی جنگ۔۔تو واپس آئیے شعائر اسلام اور اسلامی شناخت پر بابری مسجد ،ذبیحہ پر پابندی طلاق ثلاثہ اور اب حجاب مخالف معاملہ، اسلام دشمن طاقتوں نے کبھی تو  مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنایا اور کبھی اسلامی تہذیب اور روایات و شناخت کو ہدف بنایا ہے کیونکہ کے اسلام دشمن طاقتوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو ختم کیا گیا تو بغیر عقیدے کے مسلمان، مسلمان ہی کہاں بچا،باقی چیزیں تہذیبی ارتداد کے ذریعے ختم کی جا سکتی ہیں ۔کرناٹک میں حجاب مخالف ماحول نے دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک میں حجاب کے خلاف جنگ چھیڑ دی،اور دیکھاجا جائے تو یہ جنگ نسلوں کے تحفظ کی جنگ ہے،کچھ لوگ کہ رہے ہیں کہ یہ ہر مرتبہ کی طرح سیاسی ہتکھنڈہ ہے جس کے ذریعے برسر اقتدار طبقہ اکثریتی فرقے کو مذہبی دشمنی کا انجیکشن لگاکر سیاست کی گدی پر اپنی عمر بڑھانا چاہتا ہے،لیکن یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ ہر دفعہ کی طرح اسلام کے خلاف ایک اور ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.

یاد رکھیے یہ ایک مذہبی اور عقیدے کی جنگ ہی ہے جس میں خاموشی اختیار کرنا اپنے دین و ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے کے مترادف ہوگا اور جس کی اگلی منزل ارتداد یا مسلمانوں کی نسل کشی ہے،ایسی صورت حال میں عرض یہ کرنا تھا،ایمان کی جس چنگاری کو بی بی مسکان خان نے بھڑکایا ہے،اسے اپنے دلوں میں ہوا دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک حکم دےدیا کہ جب تک کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک یونیفارم کورٹ پر عمل کرتے ہوئے کالج اور اسکول میں برقعہ یا حجاب پہن کر نا جایا جائے، سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کردیا اب دو ہی راستے بجتے ہیں یاتو بغیر حجاب کے طالبات کالج اور اسکول جائیں، یا پھر گھر بیٹھی رہیں تاوقتیکہ فیصلہ نا آجائے اسی دوران کچھ ہفتوں میں امتحان بھی ہے،یہ میری نظر میں آزمائش نہیں ہے بلکہ اسلام دشمن طاقتوں کا ایسا وار ہے جس میں وہ کامیاب ہوگیا تو ہر صورت میں حجاب  پر پابندی لازمی طور پر لگے گی،صرف یہ ہوسکتا ہے کہ کچھ ریاستوں میں فوری لگ جائے اور کچھ ریاستوں میں پر سیاست کے پیش نظر  فی الوقت نا لگائیں، اب اس بات کو سمجھیے۔۔۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ امتحان سر پر ہو کرناٹک ہائی کورٹ کا درخواست کی سنوائی نا کرتے ہوئے اس کیس کو آگے بڑھانا اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ عدالت کے فیصلے تک بغیر حجاب کے کالج جایا جائے یہ ایسا ہی ہے جیسے ماضی میں جب بابری مسجد میں کچھ لوگوں نے مورتیاں رکھ دی تو عدالت نے مورتیاں اٹھوانے کے بجائے اسی حالت میں مسجد پر تالا لگوادیا اس کے بعد کیا کیا ستم ہوتا رہا سب واقف ہیں، اسی طرح اگر مسلم طالبات عدالت کے اس حکم کے تحت کالج اور اسکول جاتی ہیں تو یہ بات ایک علت اور دلیل کے طور پر کام کرے گی کہ حجاب اسلام میں ضروری نہیں یا اور کچھ اسباب بناکر حجاب پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، ضروری ہے کہ عقیدے اور اسلام کی اس جنگ میں ہم اپنا سب کچھ وار بیٹھیں لیکن کسی بھی حالت میں حجاب کے معاملے میں سمجھوتہ نا کریں، امت کو اپنی ترجیحات میں دین و عقیدے کو مقدم رکھا چاہیے، ضروری ہے کہ جتنا زور ہم نے این آر سی اور سی اے اے کے خلاف احتجاج میں صرف کیا اور جتنے شاہین باغ سجائے اس سے کہیں زیادہ ہم حجاب کے حق میں کرتے،میں یہ بات پوری شرح صدر کے ساتھ کہوں گا مسلم طالبات چاہے اپنا ایک سال ضائع کردے، ان کو اسکول اور کالج میں داخلہ نہیں ملتا تو نا ملے لیکن وہ بغیر حجاب کے اپنی تعلیم کو ترقی نہیں اپنی عفت و عصمت کا جنازہ سمجھیں۔

ساری دنیا نے آپ کی طرف نگاہیں کی ہوئی ہے مودی حکومت کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے کفر جھکے گا اور ٹوٹے گا بس دیکھنا یہ کے کہ ایمان و عقیدے اور اپنی شناخت کے لیے ہم کتنی قربانی دیتے ہیں۔اگر دل قربانیوں پر آمادہ نہیں ہوتا تو ہر ہندوستانی مسلمان اور خاص طور پر مسلم بہنوں کو سورہ بروج کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جب بھی اپنی شناخت اور دین و ایمان کے تحفظ کی بات آئے تو جسم کا سودہ کرکے روح کو اللہ کی رضا کے لیے فتح یاب کیا جاتا ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading