NCP Urdu News 14 February 22

نواب ملک کا اب قومی پسماندہ طبقات کمیشن کے خلاف محاذ

ذات کی تصدیق کا کمیشن کو اختیار ہی نہیں

ممبئی: قومی پسماندہ طبقات کمیشن کو کسی بھی قسم کی ذات کی تصدیق کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد یہ اختیارات ریاستوں کو قانون کے ذریعے ضلع ذات کی تصدیق کمیٹیوں کو دیے گئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے اختیار ہی نہیں ہے وہ سمیر وانکھیڈے کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔ ہم بہت جلد پریس کانفرنس کے ذریعے قومی پسماندہ طبقات کمیشن کے بارے میں موقف واضح کریں گے۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ذات کی تصدیق کا اختیار متعلقہ ریاستوں کی ضلعی ذات تصدیق کمیٹیوں کو دے دیا گیا ہے۔اس معاملے میں حتمی فیصلہ لینے کا اختیار بھی ضلعی ذات تصدیق کمیٹیوں کو ہی ہے۔ جس قومی پسماندہ طبقات کمیشن کو اس ضمن میں اختیار ہی نہیں ہے وہ کلین چٹ دے رہے ہیں۔ قومی پسماندہ طبقات کمیشن اپنے عمل سے دیگر اداروں کے اختیارا ت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ خبریں ہیں کہ قومی طبقات کمیشن نے میرے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن جو حکم دیا گیا ہے اس میں میرانام نہیں ہے۔ آنے والے کچھ دنو ں میں اس پورے معاملے پرقانونی مشورہ کے بعد کس بارے میں کیا کارروائی کرنی ہے، اس کی تفصیلی معلومات پریس کانفرنس کے ذریعے دونگا اور قومی طبقات کمیشن کے بارے میں اپنا موقف واضح کرونگا۔

کانگریس کا احتجاج کا فیصلہ غلط ہے

نواب ملک نے کہا کہ آج کانگریس کے ذریعے احتجاج کیا گیا۔ کانگریس نے حزبِ مخالف لیڈر کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ واضح طور پر غلط ہے۔اس طرح اپوزیشن لیڈر وں کے گھروں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس طرح کا قدم کسی بھی سیاسی پارٹی کو نہیں اٹھانا چاہئے۔ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ نیا طریقہ کارکنوں کے درمیان لڑائی کی صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے امن وامان کا بھی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جمہوریت میں مخالفت کرنے کا اختیار ہونے کے باوجودبھی اس طرح سے امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنا قطعی مناسب نہیں ہے۔ اس کے لئے جگہوں کا تعین کیا گیا ہے، انہیں جگہوں پراحتجاج کیا جانا چاہئے۔ اس کی پاسداری ہرپارٹی کو کرنی چاہئے۔ اب سیاسی جماعتوں کو کہیں نہ کہیں اس معاملے میں کردار ادا کرنا ہوگا اوریہ احتیاط برتنا ہوگا کہ اس طرح کی باتیں نہ پیدا ہوں جس سے امن وامان کو کسی قسم کا خطرہ پیدا ہو۔

سیلو کا میئراین سی پی کے نہیں تھے

دریں اثنا، پربھنی ضلع کے میئر وکارپوریٹرس کے بارے میں نواب ملک نے کہا کہ سیلو میونسپل کونسل کے میئر بوراڈے این سی پی کے نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے کارپوریٹروں نے مقامی محاذ بنا کر انہیں منتخب کیا تھا۔وہ اشوک چوہان کے قریبی ساتھی ہیں۔ وہ 2014 کے انتخابات کے دوران دیویندر فڈنویس کی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد انہوں نے غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیا تھا۔ وہ پچھلے کچھ دنوں سے اشوک چوہان سے رابطے میں تھے اور اب کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا بیان صریحا غلط ہے۔ وہ کبھی بھی این سی پی میں نہیں تھے۔ سی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ پربھنی کی دو خواتین ضلع پریشد ممبران ہیں، ان کے شوہر کانگریس میں شامل ہو ئے ہیں۔ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کے بارے میں کسی سینئر سے بات نہیں کی۔

رافیل خریداری میں بدعنوانی ہوئی

رافیل خریداری کا معاملہ ایک بار پھر گرمایا ہوا ہے۔ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نواب ملک نے کہاہم رافیل خریداری میں بدعنوانی کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کایہ موقف رہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسے کلین چٹ مل گئی ہے۔لیکن فرانس سے جو معلومات سامنے آرہی ہے وہ چونکانے والی ہے۔ اب انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انڈونیشیا کو رافیل کم پیسوں میں اور بھارت کو زیادہ پیسوں میں دیا گیا ہے۔ اس لیے اب خریداری کے پورے عمل پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اس پورے معاملے میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ لیکن حکومت اسے تسلیم نہیں کررہی ہے۔ آج نہیں تو کل یہ حکومت تبدیل ہوگی اوراس کے بعد سچائی سامنے آجائے گی اور اس ضمن میں یقینی طور پر کارروائی ہوگی۔نریندر مودی حکومت میں ریکارڈ توڑ گھوٹالے سامنے آرہے ہیں۔ نیرومودی کے 13/ہزارکروڑ روپئے کا گھوٹالہ اور اب شپنگ کمپنی میں 21ہزار کروڑ کا گھوٹالہ سامنے آرہا ہے۔ اس کی شکایت 2015میں ہوئی تھی لیکن تقریباً چھ سات سالوں میں اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ سی بی آئی نے قصدا اتنے سالوں تک مقدمہ درج نہیں کیا۔ بینکوں کی شکایت کے بعد کارروائی ہونی ضرری تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سی بی آئی نے قصداً سست روی اختیار کی۔ مودی کے دور میں ساڑھے پانچ لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالے ہوئے ہیں اور کسی بھی ملزم سے کوئی رقم نہیں وصول کی گئی ہے۔ زیادہ تر ملزم بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں۔انہیں کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ یہ اب ظاہر ہونے لگا ہے۔ انسولونسی قانون کا فائدہ اٹھاکر بیشتر لوگ فرارہورہے ہیں اوراس میں بی جے پی لیڈروں کی بھی شمولیت ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading