بجٹ میں کسانوں وعام لوگوں کولالی پاپ، البتہ ’مِترو‘ پر سہولت کی بارش:ناناپٹولے مرکزی بجٹ کا نہ کوئی سمت اورنہ ہی کوئی معنی، یہ مکمل طور پر عوام مخالف بجٹ ہے

ممبئی:مرکزی حکومت کے آج کے پیش کردہ بجٹ میں کسانوں، مزدوروں، عام لوگوں اورروزگا کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کو کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ کارپوریٹ ٹیکس سمیت بہت ہی رعایتوں کی بارش صنعت کاروں پر کی گئی ہے لیکن انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جس سے ایمانداری کے ساتھ ٹیکس اداکرنے والوں کے ہاتھ ایک بار پھر مایوسی ہی لگی ہے۔

بجٹ میں عام لوگوں، کسانوں کومرکزی حکومت نے لالی پاپ دیا ہے جبکہ اپنے صنعتکار’مِترو‘ پر رعایات کی خوب بارش کی ہے۔مجموعی طور پر مرکزی حکومت کے اس بجٹ کا نہ کوئی سمت ہے اورنہ ہی اس کے کوئی معنی ہیں، یہ مکمل طور پر بھٹکا ہوا اور بے سمت بجٹ ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے مرکزی حکومت کے بجٹ پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہی ہیں۔

بجٹ پر بات کرتے ہوئے پٹولے نے مزیدکہا کہ کسان اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ سال بھر سے زائد عرصے تک کسانوں نے احتجاج کیا جس کے بعد وعدہ کیا گیا کہ ایم ایس پی براہ راست کسانوں کے حق کا ایم ایس پی براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا، لیکن ایم ایس پی پر قانون بنانے کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اگر کھاد، بیج، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مہنگائی اور زرعی اجناس کی قیمتوں کومدنظررکھا جائے تو اس بجٹ میں کسانوں کو کچھ نہیں ملاہے۔ زرعی آلات پر جی ایس ٹی لگا کر لوٹاجارہا ہے۔ ’کسان سمّان ندھی‘ کے نام پر سالانہ 6000 روپے دیئے جاتے ہیں لیکن 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا جووعدہ کیا گیا تھااس سمت میں کچھ نہیں کیا گیا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بے روزگاری 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن حقیقت میں مودی حکومت کے دوران 3 کروڑ سے زیادہ نوکریاں ختم ہوگئیں۔ سرکاری ملازمین کی بھرتی نہ ہونے کے پس منظر میں 60 لاکھ نوکریوں کا اعداد و شمار 2 کروڑ نوکریوں کے اعداد و شمار جیسا ہی پرفریب اور نوجوانوں کو مایوس کرنے والا ہے۔نوجوانوں کو اپنی ملازمت کا خواب تاریک نظر آنے لگا ہے۔گزشتہ ۶ سالوں سے انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا، آمدنی کم ہوئی، غریبوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور بجٹ میں اس طبقے کو راحت دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔جب عوام کے ہاتھ میں پیسہ ہوگا تو ہی مارکیٹ میں تیزی آئے گی لیکن بجٹ میں آمدنی بڑھانے کی کوئی حکمت عملی نظرنہیں آرہی ہے۔

پٹولے نے مزید کہا کہ اس بجٹ میں اس بات کی خاص کوشش کی گئی ہے کہ ملک کی دولت چند صنعت کاروں کے حوالے کیسے کی جائے۔ سب کا ساتھ، سب کا وشواس کا نعرہ محض ایک نعرہ ہی ہے،کیونکہ اس کی کوئی جھلک اس بجٹ میں نظر نہیں آتی ہے۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن بار بار’آتم نربھر بھارت‘ کا ذکرکرتی رہیں لیکن وہ جس ٹیب کے ذریعے بجٹ پیش کر رہی تھیں وہ ٹیب بھی ہندوستان میں نہیں تیار ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امرت مہوتسوکے اس سال کے بجٹ میں ملک کی عوام کو ’امرت‘ کا تجربہ ملے گا لیکن ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے جو اعداد و شمارپیش کئے گئے ہیں، مہنگائی اور ملک کے اثاثوں کی فروخت سے ملک ترقی کے

بجائے تنزلی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔سچائی یہ ہے کہ اس بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔’امرت‘ کا تجربہ تو ہو نہیں رہا ہے، اس کے بجائے اس بجٹ نے کسانوں، مزدوروں، تاجروں، ملازمین، نوجوانوں سمیت تمام طبقوں کو مایوس کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ملک کے عوام کو مزید مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading