انتخابی نتائج نے یہ ثابت کردیا کہ کورونا سے نمٹنے میں مودی بری طرح ناکام ہوچکے ہیں: ناناپٹولے
ملک کو کورونا کے بحران ڈال کر انتخاب جیتنے کی ہوس میں غرق بی جے پی کو عوام نے سبق سکھادیا
ممبئی: ایک خاتون کو شکست دینے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی ان کی پوری کابینہ، ملک بھر کے بی جے پی لیڈران اور مرکزی حکومت کی تمام ایجنسیاں ملک کی عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کرمغربی بنگال میں انتخابی مہم چلا رہی تھیں۔ اقتدار، پیسہ اور مرکزی اداروں کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کے باوجود بنگال کی عوام نے بی جے پی کو شکست د ے کر بنگالی سماج و ثقافت پرحملہ کرنے والی آمرانہ رجحان کی پارٹی کو اس کی حیثیت دلادی۔ مغربی بنگال، کیرالہ اور تمل ناڈو میں بی جے پی کی شکست نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی کورونا بحران سے نمٹنے میں ناکامی پر مہر لگا دی ہے۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے پانچ ریاستوں کے ہونے والے انتخابات کے نتائج کے بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ کرونا بحران کے دوران اسپتالوں میں بیڈکی کمی، آکسیجن، دوائیوں، علاج معالجے کے فقدان کی وجہ سے ملک میں ہر روز ہزاروں افراد کی موت ہو رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی ملک کے وزیر اعظم مرنے والوں کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے مغربی بنگال میں ایک عورت کو شکست دے کر اقتدارحاصل کرنے کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ملک کی تاریخ میں یہ منظر اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی بے حسی، ظالمانہ اورمکروہ چہرے کا مشاہدہ ملک کے ساتھ پوری دنیا نے کیا۔دنیا بھر کی میڈیا نے مودی کی اس بے حس اور غیرذمہ دارانہ رویے پر زبردست تنقیدیں کیں۔ آج کے نتائج کے ساتھ ہی مغربی بنگال، کیرالہ اور تمل ناڈو کے عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو بھرپور طمانچہ رسید کیا ہے جو انتخابات جیتنے کے لئے انتہائی نچلی سطح پر چلے گئے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی روایت کے مطابق مذہبی منافرت پیدا کرکے انتخابات جیتنے کی کوشش اس انتخاب میں بھی کی۔ مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آنے والے مختلف اداروں کا اس انتخاب میں بھرپور غلط استعمال کیا گیا لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کورونا سے محفوظ رہنے کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر عدالت نے مرکزکی مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر زبردست تنقید کی ہے۔ بنگال، کیرالا اور تمل ناڈو کی سمجھدار عوام نے اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہوئے غیرذمہ دارمرکزی حکومت واپنی خودمختاری کو مفاادات کی چوکھٹ پر قربان کرنے والے لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔
پٹولے نے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج گوکہ کانگریس پارٹی کے لیے بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں مگر ہمارے لیڈران محترمہ سونیاگاندھی وراہل گاندھی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بجائے عوام کی زندگی وان کی صحت کو فوقیت دیتے ہوئے انتخابی مہم کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ عوام نے اپنے ووٹوں سے جو فیصلہ دیا ہے وہ ہمیں منظور ہے۔ کانگریس پارٹی ان نتائج کا جائزہ لے گی اور اس پر غور وفکر کرے گی۔ پنڈھرپور اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں مقامی مسائل اور وٹھل کارخانہ کے بلوں کے بقایاجات جیسے موضوعات اثرانداز ہوئے جس کی وجہ سے مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار کو شکشت کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کے فیصلے کو ہم بسروچشم قبول کرتے ہیں۔