دھننجے منڈے کے استعفے کی اطلاع ایوان کو دیئے بغیر میڈیا کو دینے والے وزیر اعلیٰ کے خلاف استحقاق کی تحریک لائی جائے گی: نانا پٹولے

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے سنتوش دیشمکھ قتل کیس کی معلومات چھپائی، ریاستی حکومت کو بھی شریک ملزم بنایا جائے

اکثریتی طاقت کے بل پر حکومت ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دے رہی

ممبئی: بیڑ ضلع کے مساجوگ کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کا بہیمانہ قتل کیا گیا، کیا اس کی کوئی اطلاع وزارت داخلہ کے پاس نہیں تھی؟ یہ سوال کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس قتل کی معلومات چھپائیں اور اب دھننجے منڈے کے استعفے کی اطلاع ایوان کو دیے بغیر براہ راست میڈیا کو دے دی، جو کہ ایوان کی توہین ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ فڑنویس کے خلاف کل استحقاق کی تحریک پیش کی جائے گی، ایسا انتباہ نانا پٹولے نے دیا ہے۔

احاطۂ اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پروٹوکول کو نظر انداز کر کے اجیت پوار کی سرکاری رہائش گاہ پر رات میں ملاقات کی، اور اسی ملاقات کے بعد دھننجے منڈے کا استعفیٰ سامنے آیا۔ حکومت کو اس معاملے کی مکمل معلومات تھیں لیکن اس نے اسے پوشیدہ رکھا۔ ناگپور کے سرمائی اجلاس میں بھی وزیر اعلیٰ فڑنویس نے غلط معلومات دے کر ایوان اور عوام کو گمراہ کیا۔ سرپنچ قتل کیس میں والمیک کراڈ اور اس کے ساتھی ملزم ہیں، لیکن حکومت نے اس معاملے میں معلومات چھپائی، اس لیے انہیں بھی شریک ملزم بنایا جانا چاہیے، یہ مطالبہ کل ایوان میں کیا جائے گا۔

اورنگزیب کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن وہی اپنی اکثریتی طاقت کے ذریعے ہنگامہ برپا کر کے کارروائی کو معطل کر رہی ہے، جو عوام کے پیسے کا ضیاع ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں پرشانت کورٹکر نے نازیبا الفاظ استعمال کر کے ان کی توہین کی، لیکن حکومت اس معاملے پر خاموش ہے۔ کچھ لوگ جو مہاراج کی توہین کرتے ہیں، وہی حکومت کے کابینہ میں شامل ہیں۔ اگر کوئی عظیم شخصیات کی توہین کرتا ہے، تو اس کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایسے افراد پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading