لاتور(محمد مسلم کبیر)ضلع لاتور میں کویڈ مریضوں کی شرح میں یومیہ اضافہ ہو رہا ہے۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے مختلف احتیاطی تدابیر کے باوجود عوام میں کورونا کے تعلّق سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ضلع میں اس وبا کے اضافے کے مدنظر تعزیرات ہند کی دفعہ 144،اور رات 8 بجے تا صبح 7 بجے تک کرفیو کا نافذ کیا گیا ہے۔

تمام سماجی،سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی لگائی گئی ہے۔دفاتر میں عوامی داخلے کو ممنوع قرار دے کر صرف ناگہانی کاموں کو انجام دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ماسک لگوانے کے لزوم کے ساتھ نہ لگوانے پر جرمانے بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔اس کے باوجود آج ضلع میں کورونا مثبت مریضوں کی تعداد 4000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ضلع کلکٹر کا سخت انتباہ۔۔۔۔۔

ضلع کے کسی بھی کوویڈ ہسپتال میں مریض کے کویڈ مثبت ہونے کے باوجود اس مریض میں کوئی علامت نہیں پائی جاتی ہے اور اس کو اسپتال میں شریک کروا لیا گیا ہے تو،اس اسپتال کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا اور اس اسپتال کے ذمےدار کے خلاف انسداد متعدی امراض ایکٹ 1897، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت سخت کارروائی کی تنبیہ ضلع کلکٹر پرتھوی راج بی پی کی ہے. ضلع لاتور میں مثبت کویڈ مریضوں کی تعداد میں یومیہ اضافہ رہا ہے۔ضلع کے بہت سے نجی اور سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نیم سرکاری اور سماجی اداروں میں کویڈ مثبت لیکن بغیر کسی علامت کے مریضوں کو غیرضروری طور پر داخل کیا جا رہا ہے۔ لہذا،ان مریضوں کے لئے وقت پر دستیاب نہیں ہیں جنھیں آکسیجن کی ضرورت ہے۔ وقت پر بستر کی عدم دستیابی کے سبب ایسے مریضوں کی حالت سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی وجہ سےایسے مریضوں کی موت کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔لہذا،اسپتال میں اس طرح کے کوویڈ مثبت لیکن اسیمپٹومیٹک مریضوں کو داخل کیے بغیرانہیں مرکزی حکومت کی کوویڈ 19 ہدایات کے مطابق مکمل علاج معالجے کے بعد مزید علاج کے لئے کوویڈ کیئر سنٹر میں داخل کیا جانا چاہئے یا کو ویڈ کیئر آپریٹنگ سسٹم سے رابطہ کر کے ان کو علاج معالجے کے لئے بھیجا جانا چاہئے۔

جو مریض ازخود اپنے گھر ہی میں ائسولیشن کی درخواست کرتے ہیں انہیں مناسب جگہ،سیکیورٹی اور دیگر علاج معالجے کے لئے ان کے گھر کا معائنہ کرکے اطمینان ہونے پر ہوم ایسولیشن کی اجازت دینی چاہئے۔گھر میں مریض کے ساتھ علیحدگی میڈیکل کٹ اپنے ساتھ رکھنے کی ہدایت دے کر عمل آوری کی ترغیب اور علاج کے لئے گھر پر ہی رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اس سے شدید علامات والے مریضوں کو وقت پر آرام اور علاج کروانے میں آسانی ہوگی۔تاہم،ضلعی کلکٹر پرتھویراج بی.پی نے خبردار کیا ہے کہ ان دواخانوں کے لائسنس منسوخ کردیے جائینگے جن میں ایسے مریض جو کورونا مثبت تو پائے گئے ہیں لیکن اُن میں کوئی علامت نہیں پائی جاتی۔