لڑکیوں کو پردے کا حکم والدین کی ذمہ داری : عالمہ الفت جہاں امجدی 

لکھن¿و۔5 اکتوبر (پرےس رلےز) آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ لکھن¶ و غوث العالم میموریل ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام ہفتہ واری دینی، تعلیمی و تربیتی اجتماع برائے خواتین کا انعقاد محترمہ عالمہ الفت فاطمہ امجدی کی صدارت میں ہوا پروگرام کا آغاز قاریہ ساجدہ فاطمہ نے تلاوت قرآن مجید سے کیا اسلامی بہنوں نے نعت رسول کا نذرانہ عقیدت پیش کیا پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے عالمہ الفت جہاں امجدی صاحبہ نے کہا قرآن کریم میں عورتوں کے پردے اور حیاءکے حوالے سے کئی بار سختی سے بھی اللہ سبحانہ و تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنوں کی عورتوں! جب اپنے گھر سے نکلنے لگو تو اپنی چادر کا ایک پلہ اپنے منہ پہ ڈال لیا کرو۔ اسلام میں شروع سے یہ پردے اور حیاءکو ایک انتہائی اہم اہمیت حاصل رہی ہے اور رحمتِ دو عالم ﷺکا بھی یہی فرمان ہے کہ حیاءایک مکمل بھلائی ہے اور حیاءایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے اور خواتین کی اہمیت کے لحاظ سے ایک موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کے حق میں سب سے بہتر ین عمل حیاءہے۔ شہزادی کونین حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی ٰ عنا فرماتی ہیں کہ عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ عورت کی کسی غیر محرم پر نگا ہ نہ پڑے اور ایسا حیاءکرے جو حیاءکرنے کا حق ہے۔ بلکہ خاتون جنت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے گھروالوں کو یہاں تک وصیت کی تھی کہ جب میرا وصال ہوجائے تو میرا جسدِخاکی گھر سے مغرب کے بعد اٹھا ئیں تا کہ اس پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔یہ بھی حیاءکی ایک بہترین مثال ہے شرم و حیاءعورت کا ایک زیور ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان اور اسلام کے تابع ہونے کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ مگر اسلامی اقداروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں سچے عاشقِ رسول اللہ علیہ والہ وسلم ہونے کا واویلا تو کرتے ہیں مگر پیارے آقا دو جہاں سروردکائنات ﷺ کے ارشادات اور سنت نبویٰ پر کسی صورت میں بھی عمل نہیں کرتے ہیں لیکن آج بھی معاشرے میں خواتین اگر اسلامی طریقے سے زندگی بسر کر یں تو معاشرے میں ایک مغرز خاتون کا کردار ادا کر سکتی ہے اور اس سے اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہے۔اس لئے والدین کیلئے ضروری ہے کہ اپنے لڑکوں کو غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالنے سے روکیں اور لڑکیوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم دیں ۔پروگرام کا اختتام صلوة وسلام اور ملک میں امن و امان اورترقی و خوشحالی کی دعا پر ہوا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading