کہہ دو غم حسین ؓمنانے والوں سے!

0 360
مفتی و قاضی سلیمان رحمانی (امام و خطیب مسجد بارہ امام کھڑکپورہ ناندیڑ)
محترم قارئین کرام دنیا جب سے قائم ہوئی ہے اس وقت سے آج تک انسانوں کی باہمی لڑائیاں ہوتی رہی ہیں، جنگ و جدال کے خونی مناظر اس آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر دیکھنے میں آتے رہے ہیں،ایک قوم کی دوسری قوم سے چشمک ،دھمکی،اور نوک جھوک چلتی رہی ،اگر غور کریں تو ہر جنگ کی آڑ میں حق و باطل سے قطع نظر خواہشات کا عمل دخل رہا اور اپنے اور اپنے کفر کو باقی رکھنے اور نفس کی تسکین کی خاطر لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا شوق غالب رہا،انسانیت کو ایک مصیبت سے نجات ملتی تو دوسری کوئی آفت اس پر مسلط ہوجاتی،یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہورہا ہے،لیکن معرکہ کربلا اپنے زمانہ کی ایک نرالے انداز کی جنگ تھی، یہاں نفس کی خواہشات کا دور دور تک پتہ نہیں تھا،نہ تعلی کا کوئی جذبہ تھا،نہ دل میں خون ناحق بہانے کا جوش و ولولہ،یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کی جنگ تھی اور صرف حق کیلئے ،خدا کو راضی کرنے ،حق کا بول بالا کرنے اور ناحق کو زیر کرنے ،خدا کی زمین کو عدل و انصاف سے بھرنے اور ظلم و تشدد اور باطل کا قلع قمع کرنے کیلئے تھی،اللہ کے کلمہ کو سر بلند کرنے کے لئے تھی،کیا بعد کی دنیا ایسی کوئی مثال پیش کرسکتی ہیں ؟ امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنے لے اس واقعہ سے کچھ عبرتیں ضرور حاصل کرلیں ،
حق کیلئے سینہ سپرد ہوجاﺅ!
معرکہ کربلا کا سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ کہیں بھی حق و باطل کا ٹکراﺅ ہوتو حق کا ساتھ دینے میں دریغ نہ کرو،اپنی ہی جان نہیں بلکہ عزیز و اقارب کی بھی جان و مال اور گھر بار کیوں نہ لٹ جائے،اس واقعہ کا سب سے عبرت انگیز پہلو یہ ہے کہ ظالم و جابر حکمرانوں ،خود ساختہ آمروں،حاکموں کے سامنے حق بات کہو،شمشیر و سنان کا خوف دل سے نکال دو،اور یہ سوچو کہ مالک حقیقی کے سامنے جواب دینا ہے، جب دین متین کی کشتی ہچکو لے کھارہی ہوتو فرض ہوجاتا ہے کہ اس کو ساحل سے ہمکنار کرو،چاہے خود تمہاری زندگی خطرہ میں پڑجائے ، حضرت حسین ؓ کے نانا جان ﷺ نے فرمایا تھا،کہ افضل ترین جہاد یہ ہے کہ ظالم فرمانروا کے روبرو بھی حق بات بغیر کسی مصلحت اندیشی کے صاف صاف کہہ دی جائے،باطل سے صف آرائی کا یہ وطیرہ اگر امت نے سیکھ لیا تو بہت کچھ سیکھ لیا ،پھر وہ باطل طاقتوں کو کبھی خاطر میں نہیں لائے گی،ان شاءاللہ ،اور دشمن کی طرف سے گرنے والی بجلیوں سے بھی امت صاف صاف وبے خوف و خطر کہہ دیدگی کہ جاﺅ تمہارا راستہ ادھر سے نہیں ہے،
بے سرو سامانی کو خاطر میں نہ لاﺅ!
اس واقعہ کا ایک اور عجیب پہلو بھی تھا،ایک طرف اقتدار،فوج،سازوسامان ،اسباب ِجنگ کی فراوانی ،شاہانہ کروفر،آمرانہ شان و شوکت ،خدم وچشم سب کچھ تھا،اور دوسری جانب نشہ توحید سے متوالا،(۲۷)بہتر نفوس کو ساتھ لے کر بنرد آزمائی کیلئے نکل پڑا،ساتھ میں کچھ نہیں تھالیکن کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ گدا،بوریہ نشینوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والا،رحم دل شہنشاہ تھا،اس کے پاس اقتدار نہیں تھا،فوج نہیں تھا،آلاتِ حرب و جنگ نہیں تھے،مگر خدا کی غیبی مدد پر آپ کو پورا یقین تھا اور آپ کا تمام تر بھروسہ اسی ذات واحد پر تھا،فتح و شکست اور موت و حیات کی دونوں صورتوں میں اسلام کابول بالا ہونے والا تھا،اور یہ ہی آپ کامقصد تھا اور یہی منشائے خداوندی بھی تھا، آخرکار نوشتہ تقدیر غالب رہا اور آپ کے ساتھ کتنے ہی چھوٹے بڑے اہل بیت جام شہادت نوش فرماکر جہاں اپنی آخرت بناگئے ،وہیںدنیا کو باطل کے سامنے سرنہ جھکانے کا سبق بھی دے گئے،آپ نے جان دیکر اسلام کو زندہ کر دیااور یزید جیت کر بھی ہار گیا،اور اس کامشن ناکام ہوگیا،اسلام مزید زندہ و تابندہ ہوا،کیا حضرت حسین ؓ کی شہادت یزید کی موت نہیں تھی؟دین کی خاطر جو موت جس قدر بے سروسامانی کے عالم میں ہوتی ہے اس کے خوشگوار اثرات اتنے ہی دور رس ہوتے ہیں،اور اس سے جو یاد گار بنتی ہے اسکو زمانہ کا ظالم ہاتھ کبھی مٹا نہیں سکتا،ظاہرپر نظر رکھنے والوں کو ایسا حیرت انگیز کارنامہ اب تک حیرت میں ڈالے ہوئے ہیںکہ
مصائب ،بے نوائی، تشنگی،کرب و المانہیں سب سے بنائی یاد گار کربلا تم نے
بہت سے ناخدا اب تک غریق بحر حیرت ہیںگزار ااپنے سر سے کیسے طوفان کر بلاتم نے
کبھی باطل کا ساتھ مت دو!
حضرت حسین ؓ نے شہادت کو گلے لگا کر دنیا کو یہ درس دیدیا کہ دنیا کا کوئی لالچ تمہیں جادہ¾ حق سے منحرف نہ ہونے دیں،دنیا کی چند روزہ متاع فانی کو حاصل کرنے کیلئے باطل سے رشتہ مت جوڑو،اور وقت پڑنے پر باطل کے مقابلہ میں صف بندی کر لو،بظاہر اس میں نقصان بھی نظر آرہا ہو تو خاطر میں مت لاﺅ،یقین کرلو کہ بالآخر فتح کاپرچم ہمارے ہی ہاتھوں میں ہوگا،ساتھ مت ظالموں ،فاسقوں ، فاجروں،خدا کے دشمنوں،متکبروں کابلکہ ایسے بدبختوں کی مخالفت میں ہی اپنی کامرانی کا یقین پیدا کرو،ساتھ دینا ہے تو حق پرستوں کا، دین کے خیر خواہوں کا،خدا کے فدائیوں کا،آج نہیں تو کل دنیا کی تمام کامیابیاں تمہارے قدم چومے گی ،اور دنیا تمہارے نقش قدم پر چلے گی۔
راہ نجات یابی بہ تقلید اہل حق الفت بکن ز جملہ فدایان کربلا
آج کے یزیدوں سے پنجہ آزمائی کرو!
دنیا ایک یزید سے یقیناخالی ہوگئی لیکن اس کا اتباع کرنے والے آج سینکڑوںیزید نظر آرہے ہیں ،جن کے عزائم بڑے خطرناک ہیں ،جو اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہیں،اور باطل کو شہ دے رہے ہیں ،اور اقتدار وقت کاناپاک ہاتھ ان کی پشت پناہی کر رہا ہے،ان سے بہت ہوشیار رہنے اور دندان شکن جواب دینے کی ضرورت ہے،
عاشورا کو تہوار مت بناﺅ!
تاریخ کایہ اہم واقعہ ایک سانحہ ہے،ساتھ ساتھ درس عبرت اور ایک نمونہ بھی ہے،اس موقع پر اہل بیت پر جو کچھ گزری اس کو یاد کریں ،انکی تقلید کاعزم کریں،اس دن کو تہوار نہ بنائیں،مٹھائی ،شربت،اور کچھڑے سے لذت حاصل نہ کریں،انکی تکلیفوں اور قربانیوں کو یاد کرکے کچھ درس حیات حاصل کریں،
ذرا دیکھئے تو سہی کہ اہل بیت نے اس سانحہ عظیم کو کس صبر و تحمل اور تسلیم و رضا سے برداشت کیا،لیکن اللہ کی مرضی کے مقابلہ میں پیشانی پر بل نہیں آنے دیا ،پس ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں کا طریقہ اختیار کریں،انہیں کے اسوئہ زندگی کو اپنائیں۔اور انہیں کے بتلائے ہوئے راستوں پر چلنے میں اپنی ابدی فلاح تصور کریں۔دوسروں کے دیکھا دیکھی نہ ماتم کریں اور نہ تعزیہ بٹھا کر تماشہ کریں کیونکہ ہم وہ ہے کہ
کہہ دو غم حسین ؓ منانے والوں سے مومن کبھی شہدا کا ماتم نہیں کرتے۔
 ہے عشق اپنی جان سے زیادہ آل رسول ﷺ سے یوںسر عام ہم ان کا تماشہ نہیں کرتے ۔
روئیں وہ جو منکر ہیں شہادت حسین ؓ کے ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے ۔