معروف ملی و سماجی کارکن عبد الرؤف خان لالہ کا انتقال
ہزاروں سوگواروں کی موجود گی میں کوسہ قبرستان میں تدفین
ممبرا: قوم و ملت کے سچے خادم، نڈر سماجی کارکن اور حق و انصاف کے بے باک سپاہی عبد الرؤف خان لالہ طویل علالت کے بعد 16 مارچ یعنی 15 رمضان المبارک کو انتقال کر گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون۔
ان کی نماز جنازہ رات 10 بجے بعد نماز عشا و تراویح ممبرا کے تنور نگر واقع الاقصیٰ مسجد میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کے بڑے بھائی اکبر لالہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اور ممبرا کے مختلف علاقوں سے لوگوں کا جم غفیر ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے امڈ آیا۔ ان کی تدفین میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کی آنکھیں اشکبار اور دل مغموم تھا۔
وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کرایا کرتے تھے۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ ان کی عمر 58 برس تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی ممبرا، ممبئی اور مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی، اور عوام کی بڑی تعداد نے ان کے انتقال کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔
عبد الرؤف لالہ جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہے اور اپنی تقاریر اور پراثر اندازِ گفتگو کے لیے معروف تھے۔ وہ صرف ایک مقرر ہی نہیں بلکہ عملی میدان کے مرد مجاہد تھے، جو ہمیشہ قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رہے۔ انہوں نے حق اور انصاف کی آواز بلند کرنے میں کبھی پس و پیش نہیں کی اور مظلوموں کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔
عبد الرؤف لالہ کا انتقال رمضان المبارک کے عین درمیان ہوا، جو ایک عظیم سعادت ہے۔ یہ مہینہ رب العالمین کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے، اور یہ سعادت اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔ ان کی جدوجہد، اخلاص اور بے لوث خدمات کو دیکھتے ہوئے عوام کا یہ پختہ یقین ہے کہ وہ اللہ کے محبوب بندوں میں شامل تھے، جنہیں رمضان المبارک میں دنیا سے رخصتی کی سعادت نصیب ہوئی۔
ان کی جرات مندی اور حق پرستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کو دوبارہ کھلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس انکاؤنٹر کو سازش اور منصوبہ بند قتل ثابت کرنے کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی اور قانونی جنگ میں ہر ممکن مدد فراہم کی۔ وہ مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے۔
عبد الرؤف لالہ نہ صرف ممبرا بلکہ پورے مہاراشٹر میں ملی، سماجی اور قومی مسائل کے حل کے لیے بے خوف ہو کر کام کرنے والی ایک عظیم شخصیت تھے۔ گجرات فسادات کے دوران وہ سب سے پہلے امداد لے کر متاثرین تک پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ جب لوگ خوف کے مارے گھروں میں قید تھے، وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ضرورت مندوں کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔
عبد الرؤف لالہ قسمت کا لونی ممبرا سے کارپوریٹر بھی رہ چکے تھے اور اپنے دور میں عوامی فلاح و بہبود کے کئی کام انجام دیے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تقریریں، ان کی حکمت عملی اور ان کی بے لوث خدمات نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا تھا۔ وہ تنظیمی صلاحیتوں کے ماہر تھے اور ملی و سماجی مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے۔
عبد الرؤف لالہ کے پسماندگان میں بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کے انتقال سے قوم و ملت ایک سچے اور بے لوث خادم سے محروم ہوگئی۔ ان کی رحلت سے ملی، سماجی اور سیاسی میدان میں ایک خلا پیدا ہوگیا، جس کا پُر ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
