حیدرآباد، 23 مئی.(پی ایس آئی) لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے لئے جاری ووٹوں کی گنتی کے درمیان جہاں ایک طرف بی جے پی کے لئے بدھائیں کا دور شروع ہو گیا ہے.
دوسری طرف اب الزام لگانے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے. اے آئی ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے کہا کہ مجھے امید ہے اگر وی وی پیٹ کی پرچیوں کا ملاپ کیا جائے، تو 100 فیصد صحیح نکلیں گی. انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی جانبداری دکھا کر وی وی پیٹ پرچیوں کا ملاپ کرنا چاہئے.انہوں نے کہا، ‘الیکشن کمیشن کو اپنی جانبداری دکھانی چاہئے. مجھے امید ہے کہ اگر وی وی پیٹ پرچیوں کا ملاپ کیا جائے، تو اعداد و شمار 100 فیصد صحیح نکلیں گے. ‘ انہوں نے بی جے پی کی جیت کے لئے ہندوو¿ں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا، ‘اس بار ای وی ایم میں ہیرا پھیری نہیں ہوئی ہے، ہندوو¿ں کے دماغ میں ہیرا پھیری کی گئی ہے.’اسد الدین اویسی تلنگانہ کی حیدرآباد لوک سبھا سیٹ سے امیدوار تھے اور وہ یہاں قریب 4 لاکھ ووٹوں جیگ گئے.
بتا دیں کہ جنوبی بھارت کی ریاستوں میں کرناٹک کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر بی جے پی کا مظاہرہ کچھ خاص نہیں رہا. اگرچہ بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے نے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کی ہے. بی جے پی اکیلے دم پر ہی 300 پار گئی ہے.
بی جے پی نے 2014 کے اس کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے. 2014 میں بی جے پی نے لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں سے 282 سیٹیں جیتی تھیں. این ڈی اے 2014 کے 336 سیٹوں کے مقابلے 343 سیٹوں پر قابض ہوتا نظر آرہا ہے.