بھیونڈی کی خبریں

اغوا کاروں کا شہر بنا بھیونڈی’چار ماہ میں 51 اغوا کی واردات43 کا پتہ لگا ، 8 ابھی تک غائب

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی ان دنوں اغوا کاروں کا شہر ثاب ہو رہا ہے ۔ پچھلے چار ماہ میں اغوا کی یہاں 51 واردات پیش آئی ہے ۔ جس میں 43 معاملات کا پولیس نے پردہ فاش کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔ جبکہ اب بھی آٹھ معاملات کا حل نہیں ہوا ہے ۔ جن کا پتہ لگانے میں پولیس ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ بڑھتے اغوا کی واردات اور پولیس کی بے حسی والدین میں خوف کا سبب بنی ہوئی ہے ۔واضح ہو کے بھیونڈی میں اغوا کی واردات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ پچھلے سال جنوری سے اپریل 2018 کے درمیان میں یہاں کے چھ پولیس اسٹیشن میں کل 52 اغوا کی واردات پیش آئی تھی ۔ جس میں 17 لڑکے اور 34 لڑکیوں کی شمولیت تھی ۔ 45 تو مل گئے ۔ لیكن سات اب بھی لاپتہ ہے ۔ جبکہ سال 2019 میں چار ماہ میں 51 لوگ غائب ہے جس میں 22 لڑکے اور 29 لڑکیاں شامل ہے ۔ جس میں سے 43 کا پتہ پولیس نے لگا ليا ۔جبکہ آٹھ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ جس میں پانچ نابالغ ہے ۔ سال 2018 میں 4 تو اس موجودہ سال میں 6 لڑکیاں ابھی بھی لاپتہ ہے ۔دو ماہ میں بھیونڈی زون 2 میں 17 لڑکے اور 18 لڑکیاں کا اغوا ہوا ہے ۔ جس میں 14 لڑکے اور 10 لڑکیوں کو پتہ چلا ۔لیكن تین لڑکے اور 8 لڑكياں اب بھی لاپتہ ہے ۔ بھیونڈی پولیس ڈپٹی کمشنر انکت گوئل کا کہناہے کہ بھیونڈی میں اغوا کی واردات بہت کم ہوتی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کھیلتے کھیلتے کہی چار گھنٹے کے لئے گھر سے باہر جاتی ہے اور لواحقین پریشان ہوکر پولیس اسٹیشن جاتے ہیں تو بھی پولیس اسے اغوا کا معاملہ درج کرتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ کئی بار غائب بچہ دوبارہ گھر آ جاتا ہے لیکن پھر بھی یہ اغوا کا معاملہ ہی درج رہتا ہے ۔ ڈی سی پی انکت گوئل نے بتایا کہ اگر کوئی اغوا کا معاملہ رونما ہوتی ہے تو فوری طور پر پولیس کی کئی ٹیم قائم کر تحقیقات میں پولیس جٹ جاتی ہے اور اس کا فوری طور پر پردہ فاش کر ملزم کو پکڑ کر بچوں کو آزاد کراتے ہے ۔ انھوں بتایا کہ سچائی یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لڑکے لڑكياں کسی نہ کسی کے ساتھ محبت کے چکر میں بھاگتی ہے۔ جو اپنے آپ گھر سے بھاگتے ہے انھیں پولیس کس طرح تلاش کریں گی۔

پولیس اسٹرانگ روم کی حفاظت میں مستعد ‘بے خوف چور چوری میں مست
شادی میں گئے بلڈر کے گھر کی کھڑکی توڑ کر 43 لاکھ کی چوری’چوروں کو پکڑنے میں پولیس ناکام
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی تعلقہ پولیس کے اسٹرانگ روم کی حفاظت میں لگنے کی وجہ سے پولیس سے بے خوف ہوکر چور چوری کی واردات کو انجام دینے میں لگے ہوئے ہے ۔ تعلقہ کے پوگاوں علاقے میں شادی کی تقریب میں گئے ایک بلڈر کے گھر کی کھڑکی توڑ کر نامعلوم چوروں نے بنگلے میں گھس کر 43 لاکھ کے زیورات اور نقدی چوری کر فرار ہو گے ۔ نامعلوم چوروں پر پولیس نے کیس تو درج کر لیا ہے لیکن ان کو پکڑنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ شادی کا سیزن ہونے کی وجہ سے چوروں کی دہشت گردی کو لے کر گرامینوں میں خوف کا ماحول ہے ۔

پولیس کے مطابق بھیونڈی تعلقہ کے پوگاوں کے رہائشی وشواس عرف بابا پاٹل اپنے اہل خانہ کے ہمراہ منگل کی رات میں اپنے بنگلے میں تالا لگا کر كھونی گاؤں کے رشتہ دار کے گھر شادی کے پروگرام میں شامل ہونے کے لئے گئے تھے ۔جسكا فائدہ اٹھا کر نامعلوم چوروں نے بیڈروم کی کھڑکی کی گریل توڑ کر گھر میں داخل ہوکر بے جوف بیڈروم کی الماری سے چوری کر فرار ہو گئے۔ شادی کی پروگرام ختم ہونے کے بعد پاٹل رات میں جب گھر پہنچے تو ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ بیڈروم کا كباٹ کھلا تھا ۔ اس میں رکھا سامان بکھرا پڑا تھا ۔كباٹ کھلا تھا سونے کے زیورات اور 10 لاکھ نقد سمیت چوروں نے گھر سے 43 لاکھ روپئے کا مال چوری کر فرار ہو گئے ہیں ۔ وسواس پاٹل کی شکایت پر تعلقہ پولیس نے نامعلوم چوروں پر کیس درج کر فنگر پرنٹ اور ڈوگ اسکواڈ کے ذریعے چوروں کی تلاش شروع کر دی ہے ۔ بتا دیں کہ ان دنوں شادی کا موسم چل رہا ہے ۔ لوگ گھروں میں تالا لگا کر شادی میں شامل ہونے جا رہے ہے ۔ اس واقعہ کے دو دن بعد نامعلوم چوروم نے ورجیشوری دیوی مندر میں 15 لاکھ کی ڈکیتی کر فرار ہو گئے تھے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کی کمی کا فائدہ اٹھا کر چور بند گھروں میں ہاتھ صاف کر رہے ہے ۔ کیونکہ پولیس ان دنوں ای وی ایم کی حفاظت میں مصروف ہے ۔ بتا دیں کہ بھیونڈی لوک سبھا علاقے کے ای وی ایم کو پریسیڈنسی اسکول میں اسٹرانگ روم بنا رکھا گیا ہے ۔ جہاں پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہے ۔ اسٹرانگ روم کے باہر مختص پولیس، راجیہ ریزرو پولیس کے ساتھ بھیونڈی تعلقہ پولیس کے 60 سے زیادہ پولیس افسر اور ملازمین سیکورٹی میں لگے ہے ۔ جس کی وجہ سے پولیس دیگر معاملات کو نظر انداز کر سیکورٹی کے نظام اور گست نہیں کر رہی ہے ۔جس کی وجہ سے چور بے خوف ہوکر چوری میں لگے ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading