آج امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ معاہدے سے متعلق مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد آج ہونا تھا۔ اس کے برعکس، تیسری رات بھی اسرائیل نے ایران کے کئی کلومیٹر اندر جا کر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے اسرائیل پر دو بار بیلسٹک میزائل داغے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کم از کم دس اسرائیلی شہری ایرانی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 128 شہری ہلاک جبکہ 900 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب ’جوابی میزائلوں‘ کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو پھر اسرائیل ’بہت سخت اور مزید شدید‘ جواب کی امید رکھے۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کو عام اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی ’بہت بھاری قیمت‘ چکانی ہو گی۔ بیت یام میں اس رہائشی عمارت کی جگہ پر جو ایرانی میزائل حملے میں تباہ ہوئی ہے نتن یاہو نے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو ’عام شہریوں، خواتین اور بچوں کا سوچا سمجھا قتل قرار دیا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے، اور وہ یہ معاہدہ کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وہ ایسے معاہدے کو یقینی بنائیں گے۔‘ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے دنیا بھر کے ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کی طرف اشارہ کیا جس کو روکنے میں انھوں نے مدد کی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا حصہ نہیں ہے مگر یہ ممکن ہے کہ وہ اس کا حصہ بن جائے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ روسی صدر کی ثالثی کی پیشکش کو تسلیم کرنے پر بھی تیار ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ ان اسرائیلی حملوں میں شراکت دار ہے‘ جو ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے اور کہا کہ امریکہ ’اپنی ذمہ داری خود قبول کرے۔‘اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے درجنوں جنگی طیاروں نے رات بھر اور ایران کے ساتھ لڑائی کے تیسرے روز تہران میں کم از کم 80 اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ان میں ایران کی وزارت دفاع کا ہیڈکوارٹرز، فوج کا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ اور دیگر اہداف جہاں ایرانی حکومت نے جوہری ذخیرہ چھپا رکھا ہ
ے شامل ہیں۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کی جانب سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔ برطانیہ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے امکان کی وجہ سے یہ ہدایات دی گئی ہیں۔ ادھر پاکستان نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کی جانب سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔