باسر میں خوفناک حادثہ، گوداوری ندی میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان ڈوب گئے

نرمل: (حیدر علی): تلنگانہ کے مشہور مندر والے قصبے باسر میں اتوار کے دن ایک مذہبی سفر افسوسناک سانحے میں تبدیل ہو گیا، جب حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے چھ نوجوان بھکت گوداوری ندی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ یہ افراد قدیم سری گیان سرسوتی دیوستھانم کے درشن کے لیے یہاں پہنچے تھے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت دل سکھ نگر حیدرآباد کے نوجوانوں کے طور پر ہوئی۔پولیس کے مطابق، حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی شناخت چنتل بازار، دل سکھ نگر، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے درج ذیل افراد کے طور پر ہوئی ہے:

راکیش (17 سال) وِنود (18 سال) مدن (18 سال) رتھ وِک بھارت، ان میں سے پانچ نوجوانوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ چھٹے کی تلاش جاری ہے۔تین خاندانوں کے 18 افراد پر مشتمل قافلہ درشن کے لیے آیا تھایہ قافلہ تین خاندانوں کے 18 افراد پر مشتمل تھا جو ہفتہ کے اختتام پر درشن کے لیے باسر آیا تھا۔ جب یہ نوجوان گوداوری میں مقدس غسل کر رہے تھے تو گہرے پانی میں چلے گئے۔ چونکہ انہیں تیراکی نہیں آتی تھی، اس لیے تیز دھارے میں بہہ گئے۔

حادثے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ماہر غوطہ خوروں کو تعینات کیا گیا اور پانچ لاشیں نکالی گئیں۔ چھٹے نوجوان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

مقامی حکام اور پولیس نے زائرین سے اپیل کی ہے کہ گہرے پانی سے دور رہیں اور احتیاطی ہدایات پر عمل کریں، خصوصاً مذہبی تہواروں اور یاترا کے دوران۔ یہ واقعہ گنگا گھاٹ جیسے مقامات پر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ حیدرآباد، خصوصاً دل سکھ نگر کے عوام میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی افراد، رشتہ دار اور دوست اس ناقابل تلافی نقصان پر گہرے دکھ میں مبتلا ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading