حسن اخلاق

اخلاق، خلق کی جمع ہے. اس کے معنی پختہ عادت کے ہیں .

گویا ایسی عادات جو انسان میں شامل ہوجائیں اور اس کی وجہ انسان پہچانا جائے . حسن اخلاق اچھی عادات سچ بولنا ، اچھا برتاؤ کرنا، نرم دل ہونا وغیرہ شمار کی جاتی ہیں. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق کی تمام خوبیوں کے پیکر تھے. ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم كے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟

قرآن خود اس بات کا گواہ ہے. اللہ تعالی نے قرآن کریم میں صاف صاف بیان کردیا کہ:

” وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ ” (سورۃ القلم آیت: 4)
ترجمہ:

” اور یقینا تم اخلاق کے اعلی درجے پر ہو” ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث سے ہمیں حسن اخلاق کا درس ملتا ہے. جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

” ‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا” . ( صحیح بخاری :3559)
ترجمہ:

” رسول اللہ ﷺ بدزبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں (جو لوگوں سے کشادہ پیشانی سے پیش آئے)”.

"‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا”. (صحیح بخاری:3759)

ترجمہ:
” عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ تعالی عنہ) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ ﷺ کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں” ۔

"‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا”. (صحیح بخاری: 6029)

ترجمہ:

” آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں” ۔

” أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا” . (جامع ترمذی: 1162)

ترجمہ:
ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کہتے ہیں, کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو” .

ہمارے نبی نے کتنی تکالیف اور مشکلات برداشت کیں، مگر حسن اخلاق کو اپنا شیوہ بنائے رکھا. ہر طرح کے القابات سے کفار مکہ نے ان کو پکارا لیکن اس کے باوجود بھی انہوں حسن اخلاق کے ذریعے نرم رویہ اپنائے رکھا. پتھر سے لہولہان کرنے والے کو معاف کیا، گردن پر تلوار رکھ کر یہ پوچھنے والے کو معاف کیا کہ بتا تجھے اب مجھ سے کون بچائے گا؟ اتنے ظلم ڈھانے کے بعد بھی فتح مکہ کے موقع پر اعلان کیا کہ جاؤ! آج تم سب آزاد ہو. کیوں کہ نبی امی اسوۂ حسنہ کے پیکر تھے .

” لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا ” (سورۃ الاحزاب آیت: 21)

ترجمہ:
” حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو”۔

حسن اخلاق سے معاشرہ میں امن و سکون ہوتا ہے. جہاں اخلاق فاضلہ کے بجائے اخلاق رذیلہ (جھوٹ ،غیبت، چغلی، بے حیائی ، گالی گلوچ، چوری وغیرہ) جنم لے لیں ، تو معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور معاشرہ پستی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے . حسن اخلاق سے ہمارا معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہوجاتا ہے اور اس سے ایک کامیاب و ترقی پذیر معاشرہ تشکیل پاتا ہے.

شاعر نے کیا خوب بیان کیا ہے:

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحل
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے
(خالد ملک ساحل)

ہم نے بھی اسوۂ حسنہ کے ذریعے سکھائے گئے حسن اخلاق کو ایک ردی کی ٹوکری میں رکھ دیا، اخلاق رذیلہ کو خرید کر اسے قیمتی بنانے میں اس معاشرے کے ہر ہر فرد کا کردار ہے. تو ہمیں آج سے عزم کرنا ہے کہ اخلاق رذیلہ کو اس ردی کی ٹوکری میں پھینک کر اسوۂ حسنہ کے ذریعے دی جانے والی قیمتی تعلیمات کے زیور سے خود کو آراستہ کرنا ہے. اللہ ہم سب کو اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

٧_جولائی_۲۰۲۰

١٥_ذوالقعدہ_١٤٤١

از قلم سیدہ حفظہ احمد

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading