امریکہ : مذہبی آزادیوں کے پینل نے بھارت کے جاسوسی ادارے پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کردیا
امریکہ میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے فورم نے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کو سخت گراوٹ کا شکار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے جاسوس ادارے پر امریکہ پابندیاں عاید کرے۔ کیونکہ یہ بھارتی جاسوس ادارہ دوسرے ملکوں میں سکھوں کے خلاف قتل وغارتگری کے واقعات میں ملوث ہے۔
امریکہ کے اس کیمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ویتنام نے مذہبی امور کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید کوششیں کی ہیں۔ اس لیے ویتنام کو ان ملکوں میں شامل کیا جانا چاہیے جن کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
پچھلے سال 2024 میں بھی امریکہ کے اس کمیشن نے بھارت میں مذہبی گروہوں اور آبادیوں کے حقوق کو سخت خطرے میں قرار دیا تھا اور امتیازی سلوک کا نشانہ بتایا تھا۔ اس سال بھی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں یہی کہا گیا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی صورتحال مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت کی انتہا پسند ہندو جاعتوں کے حمایت یافتہ ‘بی جے پی’ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت نے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف پچھلے سال انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز پراپیگنڈا کرتے ہوئے شدت پسندانہ خیالات کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب بھارت نے امریکی ادارے کی اس جائزہ رپورٹ کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سیاسی بنیادوں پر تیار کی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ‘امریکی ادارے نے بعض واقعات کو جو الگ الگ نوعیت کے الگ الگ جگہوں پرتھے غلط طریقے سے پیش کیا ہے۔ بھارت کثیر الثقافتی معاشرے کا نام ہے۔ ‘
انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں مذہبی آزادی کے لیے حقیقی تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے ساتھ بھارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے ایشیا میں چین کے اثرات میں اضافے کے پیش نظر امریکہ بھارت اور ویتنام کے قریب آنے کی کوشش میں رہا ہے۔ اس وجہ سے بھارت کو ان دونوں ملکوں میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے معاملات سے چشم پوشی کرنے کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔
لیکن جب سے بھارتی جاسوس اداروں پر یہ الزام سامنے آیا ہے کہ انہوں نے کینیڈا اور امریکہ میں خالصتان کے حامی سکھوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اس کے بعد امریکہ و بھارت کے تعلقات میں کچھ مسائل ابھرے ہیں اور یہ صورتحال 2023 کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔
بھارت سکھ علیحدگی پسندوں اور خالصتان کے حامیوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔ تاہم وہ ان کے قتل و غارتگری کے معاملات کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے سال ماہ اپریل میں مسلمانوں کو دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مداخلت کار قرار دیا تھا اور ان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
ان کے طویل دور حکومت میں ہندوتوا کے نام سے بھارت میں ہندو غلبے کی کثیر الجہت کوششیں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو خوفزہ کرنے والی رہی ہیں۔ تاہم بھارت سرکار اپنے حامی میڈیا کی اس موضوع پر اقلیتوں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا مہم کے باوجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
aa