نادر شاہ: وہ ایرانی بادشاہ جو ہندوستان سے تخت طاوس اور کوہِ نور لے گئے
مارچ 1739 کو مغل دارالحکومت دلی کا منظر: شہری گھروں کے اندر ہیں۔ ایران کے قزلباش (سرخ ٹوپیوں والے) سپاہی شہر کے باہر شالیمار باغات سے سرخ ریتلے پتھر کے عظیم قلعہ نما محل تک کے راستہ کے دونوں طرف قطار میں کھڑے ہیں۔

بیس ہزار گھڑ سواروں اور پچھلے ماہ، 24 فروری کو، کرنال کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے 100 ہاتھیوں پر سوار تفنگ برداروں کا ایک جلوس چلا آتا ہے۔ محل پہنچنے پر جلوس کے قائد اپنے سرمئی گھوڑے سے اتر کر پیدل داخل ہوتے ہیں۔

سلامی میں توپیں داغی جاتی ہیں۔ ایسا زبردست شور ہوتا ہے جیسے شہر کا شہر ‘خود پر گرنے کو ہے۔‘ یہ استقبال ہے ایرانی بادشاہ نادر شاہ کا، جس کا تذکرہ تاریخ کے استاد مائیکل ایکسوردی نے اپنی کتاب ’دی سورڈ آف پرشیا‘ (ایران کی تلوار) میں کیا ہے۔

نادر شاہ کا لقب اور ایرانی تخت
نادر شاہ کا اصل نام نادر قلی بیگ تھا۔ پیدائش 22 اکتوبر 1688، کو بھان، صفوی فارس (تب ایران کا یہ نام تھا) میں ہوئی۔ ترک افشار قبیلے سے تعلق تھا جو ایران کے صفوی شاہ کے وفادار تھے۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مدیر آدم زیدان کی تحقیق ہے کہ ایک مقامی سردار کے ماتحت خدمات انجام دینے کے بعد، نادر نے ڈاکوؤں کا ایک گروہ بنایا۔ 1726 میں، ڈاکوؤں کے اس گروہ کے سربراہ کے طور پر، صفوی شاہ طہماسپ دوم کی حمایت میں 5000 پیروکاروں کی قیادت کی۔

ایکسوردی نے لکھا ہے کہ فارس مایوس کن حالت میں تھا، مغلوب اور ذلت کا شکار تھا۔ دارالحکومت، اصفہان، چھ سال تک افغان حملہ آوروں کے قبضہ میں تھا، اور زیادہ تر شمالی اور مغربی صوبوں پر ترکوں اور روسیوں کا قبضہ تھا۔

زیدان کے مطابق طہماسپ تب اس تخت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھے جو ان کے والد نے چار سال قبل غلزئی افغان محمود کے ہاتھوں کھو دیا تھا۔ نادر نے ایران کی فوج میں اصلاحات کیں اور شاندار فتوحات کے ایک سلسلے میں غلزئی افغانوں کو شکست دے کر طہماسپ کو ایرانی تخت پر بحال کیا۔

’اس کے بعد نادر نے حملہ کیا اور عثمانی ترکوں کو شکست دی، جنھوں نے آذربائیجان اور عراق کے ملحقہ علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ دریں اثنا، شاہ طہماسپ نے ترکوں پر تابڑ توڑ حملے کیے جبکہ نادر خراسان میں بغاوت سے نمٹ رہے تھے۔‘

لیکن شاہ کو زبردست شکست ہوئی اور وہ ترکوں کے ساتھ ذلت آمیز شرائط پر صلح کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس پر غصے میں آکر نادر نے طہماسپ کو معزول کر کے ان کے نوزائیدہ بیٹے کو تخت پر بٹھایا، اور خود کو نائبِ ریاست قرار دیا۔

عراق میں ترکوں کے ہاتھوں شکست کے بعد، نادر نے انھیں ایران سے مکمل طور پر نکال کر خود ہی بدلہ لیا۔ پھر، روس کو جنگ کی دھمکی دے کر، اسے اپنے کیسپین صوبوں کو ایران کے حوالے کرنے پر مجبور کیا۔ 1736 میں نادر نے طہماسپ دوم کے بیٹے نوجوان عباس سوم کو معزول کر دیا اور ’نادر شاہ‘ کا لقب اختیار کرتے ہوئے خود ایرانی تخت سنبھال لیا۔

’نادر شاہ نے بحریہ کی تعمیر کی اور اس کی مدد سے نہ صرف بحرین کو عربوں سے چھینا بلکہ عمان کو فتح کرنے میں بھی کامیاب رہے۔1737 میں ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے۔ اصفہان سے دو سال اور چار ماہ کے اپنے سفر میں نادر اور ان کے ساتھیوں نے 1,750 میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا اور راستے میں موجودہ افغانستان کا بیشتر حصہ فتح کر لیا۔’
اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو یہ ہے‘
نادر نے اب دلی کا رُخ کیا۔ وہ درۂ خیبر کے راستے برصغیر کی حدود میں داخل ہوئے اور پشاور اور لاہور کو فتح کرتے ہوئے کرنال کے مقام تک پہنچ گئے جو دلی سے صرف 70 میل شمال میں تھا۔

مغلیہ سلطنت کی بدانتظامی اور اندرونی خلفشار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نادر تو کابل سے 600 میل کا فاصلہ طے کر کے کرنال پہنچ گئے لیکن محمد شاہ رنگیلا اپنی پوری فوج 70 میل دور کرنال تک میں جمع نہ کرسکے اور توپ خانے کے پہنچنے سے پہلے ہی لڑائی شروع ہو گئی۔

نتیجہ ظاہر تھا، نادر کے توپ خانے نے ہزاروں ہندوستانی فوجی بھون ڈالے لیکن ایرانی فوج کے گنتی کے چند سپاہی ہلاک ہوئے۔ 24 فروری کو کرنال کی جنگ جیت کر نادر مارچ 1739 میں فاتحانہ انداز میں دلی میں داخل ہوئے اور دو ماہ تک وہاں قیام کیا۔

1739 میں مسلم دنیا کی تین عظیم سلطنتوں عثمانی، فارس اور مغل میں سے مغل سلطنت سب سے زیادہ امیر تھی۔ دلی دنیا کے عظیم دارالحکومتوں میں سے ایک تھا۔

اپنی تاریخ کے تمام ادوار، خاص طور پر ایک صدی قبل شاہ جہاں کے زمانے کی یادگاروں سے سجے، عام طور پر شاہ جہان آباد کے نام سے جانے جاتے اس شہر کی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی۔
ایکسوردی نے لکھا ہے کہ جب نادر شاہ دلی کے قلعہ نما محل (لال قلعہ) پہنچے تو مغل شہنشاہ محمد شاہ (رنگیلا) نے شاندار استقبال کیا اور انھیں قیمتی تحائف دیے۔

‘دلی میں یہ پہلی ملاقات دیوان خاص میں ہوئی۔ سنگ مرمر کی عمارت پر سورج کی روشنی سے بچنے کے لیے سرخ کپڑوں کے سائبان لگے ہوئے تھے۔ ستون، دیواریں اور چھتیں سونے اور چاندی کے ورق سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

’عمارت کا مرکز اسراف تخت طاوس تھا۔ کرسی کی طرح یہ تخت، تقریباً چھ فٹ لمبا اور چار فٹ چوڑا سونے کے چار پایوں پر کھڑا تھا۔ ہر سطح پر جواہرات جڑے تھے، کچھ بہت بڑے، کچھ کبوتر کے انڈوں کے برابر۔ زمرد سے بنے 12 ستونوں نے زیورات کی چھت کو تھام رکھا تھا۔ ہر ستون پر جواہرات سے جڑے دو مور تھے اور ہر مور کے درمیان ہیرے، زمرد، یاقوت اور موتیوں سے ڈھکا ایک درخت تھا۔

’بہت بڑا کوہِ نور ہیرا تخت کے آگے یاقوت اور زمرد سے گھرا ہوا تھا۔ اپنی اصل شکل میں، ہیرے کا وزن 191 میٹرک کیرٹس سے زیادہ تھا۔ کمرے کی دیواروں پر فارسی میں بار بار لکھا تھا: گر فردوس بر روئے زمیں است۔۔۔ ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است، یعنی ‘اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو یہ ہے، یہ ہے، یہ ہے۔‘

’نادر اور ان کے ذاتی عملے نے قلعے میں شاہی کمروں پر قبضہ کر لیا، محمد شاہ حرم میں چلے گئے۔’
تخت طاوس، کوہ نور کے علاوہ نادر شاہ نے دلی سے کتنا مال لوٹا؟
اب نادر نے دلی میں خراج وصول کرنا شروع کیا۔

شہر کے تمام دروازوں پر پہرے بٹھا دیے، سب کو اندر آنے کی اجازت تھی، لیکن کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

کرنال کے بڑے بڑے لوگوں کا مال پہلے ضبط کیا گیا۔ انکار کرنے والوں کے ساتھ سخت سلوک کیا گیا۔

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ بنگال کے گورنر کے دربار کے نمائندے کو جب بتایا گیا کہ صوبے کی دولت کا تخمینہ سات کروڑ لگایا گیا ہے تو اس نے مذاق میں کہا کہ ’اتنی بڑی رقم کو لے جانے کے لیے بنگال سے دلی تک گاڑیوں کی ضرورت ہوگی۔‘ اس کے اس مذاق پر اسے شدید مارا پیٹا گیا۔ اس سلوک پر اس نے خود کو اور اپنے خاندان کو زہر دے دیا۔

اب تک جمع کی گئی اور متوقع رقوم کے بل پر، 27 مارچ کو نادر نے فارس میں اعلان کرنے کے لیے ایک حکمنامہ بھیجا کہ تمام علاقوں کو تین سال کے لیے ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے سپاہیوں کے بقایا جات چکائے اور ایک سال کی پیشگی ادائیگی کی، اور انھیں چھ ماہ کی تنخواہ انعام میں دی۔

نادر نے دلی سے جو اکٹھا کیا، اس میں محمد شاہ اور بڑے امرا سے ملنے والے تحفے یا چندے (زیورات اور نقدی)، عوام اور شاہی خزانے سے لی گئی رقم اور قیمتی سامان، ملبوسات، توپیں اور دیگر ہتھیار شامل تھے۔

وہ 1000 ہاتھی، 7000 گھوڑے اور 10000 اونٹ بھی لے گئے۔ متعدد مستند معاصر ذرائع کل 70 کروڑ کی مالیت پر متفق ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ نادر کے سپاہیوں نے اضافی 10 کروڑ چھین لیے۔

مورخ، جیمز فریزر کے حساب سے، نادر شاہ کی لوٹی گئی کل دولت 1753 میں 85,500,000 پاؤنڈ کی مالیت کے برابر تھی۔

ان خزانوں میں سب سے نمایاں تخت طاوس اور کوہ نور ہیرا تھے۔ تخت کو بعد میں توڑا گیا، کوہ نور فارس میں نہیں رہا۔ لیکن تاج کے جواہرات آج بھی تہران میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ان میں دریائے نور ہیرا شامل ہے جو شاید دنیا کا سب سے بڑا گلابی ہیرا ہے.
نادر کی فتح نے انگریزوں کو خبر دی کہ مغل کمزور ہیں
ایکسوردی لکھتے ہیں کہ گھوڑوں، خچروں اور اونٹوں کا ایک قافلہ تیار کیا گیا۔ سر پر جواہر جڑی سرخ ٹوپی پر سفید کشمیری شال پگڑی کی طرح باندھے، نادر نے 16 مئی 1739 کو اپنی فوج کے ساتھ دلی سے کوچ کیا۔

وہ سر بلند سڑکوں پر جا رہے تھے۔ جب لوگ ان کی تعریف کرتے تو دونوں ہاتھوں سے روپیہ ان کی طرف پھینکتے جاتے۔

ایک ہی دہائی میں نادر نے اپنے تمام دشمنوں کو شکست دے کر فارس کو قفقاز کے پہاڑوں سے لے کر دریائے جمنا تک غالب طاقت بنا دیا تھا۔

مگر اس حملے نے زوال پذیر مغلوں کو تباہ کر دیا۔ مرکزی طاقت کا وجود ختم ہو گیا۔ سلطنت کے انتظام کے لیے کوئی محصول باقی نہیں بچا تھا۔ صوبے آزاد ہو گئے۔

ایرانی تاریخ کے استاد اور مورخ علی انصاری کہتے ہیں کہ ’یہ وہ دراصل نادر شاہ ہیں جن کے باعث ہندوستان میں برطانوی اور فرانسیسی استعمار فعال ہوئے۔‘

نادر کی فتح نے انگریزوں کو خبر دی کہ مغل کمزور ہیں، اور ہندوستانی صوبائی حکمران ایک دوسرے کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ 1757 میں، لارڈ کلائیو نے پلاسی کی جنگ میں بنگال پر قبضہ کیا، اور 1764 میں، انگریزوں نے بکسر کی جنگ میں مغلوں کو شکست دی۔

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ نادر کے بغیر، ہندوستان میں برطانوی حکومت بہت بعد میں آتی۔ یا شاید، بالکل نہ آتی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading