سہارنپور میں گائے ذبح کرنے کاالزام۔ ہندوتوا لیڈر کی رقم لے کر احتجاج منظم کی سازش بے نقابب

نئی دہلی: ایک ہندو توا تنظیم ہندویودھا پریوار سنگھاٹن نے منگل کے روز اتر پردیش کے سہارنپور شہر میں ذبیحہ گاؤں کے جھوٹے کیس پر ہنگامہ کھڑا کردیا۔بتایا جاتاہے کہ ہندو تنظیم کے ایک ممتاز لیڈر چودھری وش سنگھ کمبوچ نے اپنے ایک دوست ٹیپو قریشی کی ایماء پر پیسے لے کر احتجاج منظم کیا۔

قریشی اپنے ایک حریف کو اس کیس میں پھنسانا چاہتاتھا۔ منگل کے روز سرسوا پولیس اسٹیشن کے ملازمین کمبوج کو مذہبی دشمنی پیدا کرنے‘ پولیس عہدیداروں کے ساتھ بیجا سلوک کرنے اور ہائی وے مسدود کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پولیس کے ایک بیان میں کہاگیا کہ کمبوج نے اپنے ایک دوست ٹیپو سے 50ہزار روپئے وصول کئے تھے تاکہ گائے ذبحہ کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کیا جائے اور کسی اور کو پھنسایا جائے۔

پولیس کے مطابق کمبوج نے احتجاج منظم کیا اور ہائی وے مسدود کردیا تاکہ مختلف مذہبی گروپس اور ذاتوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیا جاسکے۔ منگل کی دوپہراس کی گرفتاری کے وقت اس کے قبضہ سے لاٹھیاں اور جانوروں کے سروں کے ڈھانچے برآمد کئے گئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading