صرف 22 برس کی عمر میں ارب پتی بننا کسی خواب سے کم نہیں، مگر جنوبی کوریا کی کم جنگ یون نے یہ حقیقت میں کر دکھایا ہے۔ فوربز کی 2026 کی ورلڈ بلینیئرز فہرست میں ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی کم عمر ترین خاتون ٹیک ارب پتی قرار دی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کوئی نیا اسٹارٹ اپ شروع کر کے یہ دولت حاصل نہیں کی، بلکہ اپنے والد کی قائم کردہ گیمنگ کمپنی نیکسن میں وراثتی حصے کی بدولت وہ ارب پتی بن گئیں۔
فوربز کے مطابق 2026 میں کم جنگ یون کی مجموعی دولت تقریباً 1.7 ارب امریکی ڈالر ہے۔ ان کی دولت کا بنیادی ذریعہ آن لائن گیمنگ انڈسٹری ہے۔ اگرچہ دنیا کی کم عمر ترین ارب پتی بننے کا مجموعی ریکارڈ 20 سالہ ایملی ویگنٹ کے نام ہے، تاہم کم جنگ یون کو دنیا کی کم عمر ترین خاتون ٹیک ارب پتی کہا جا رہا ہے۔
کم جنگ یون کے والد کم جنگ جو نے 1994 میں نیکسن کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کمپنی نے آن لائن گیمنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کیا اور MapleStory، KartRider اور Dungeon & Fighter جیسے عالمی شہرت یافتہ گیمز متعارف کرائے۔ فوربز کے مطابق نیکسن اس وقت دنیا بھر میں 80 سے زائد لائیو گیمز چلا رہی ہے، جبکہ اس کے صارفین 72 سے زیادہ ممالک میں موجود ہیں۔
کم جنگ جو نے صرف گیمز بنانے پر توجہ نہیں دی بلکہ انہوں نے "فری ٹو پلے” ماڈل کو بھی فروغ دیا، جس کے تحت صارفین مفت میں گیم کھیل سکتے ہیں جبکہ کمپنی دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرتی ہے۔ بعد ازاں یہی ماڈل پوری گیمنگ انڈسٹری میں انتہائی مقبول ثابت ہوا۔
کم جنگ یون کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ 2022 میں آیا، جب ان کے والد کم جنگ جو 54 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے بعد کم جنگ یون اور ان کی بہن کم جنگ من کو خاندانی کمپنی میں بڑا حصہ وراثت میں ملا۔ نیکسن کی سب سے بڑی شیئر ہولڈنگ کمپنی NXC میں دونوں بہنوں کو نمایاں حصہ ملا۔
فوربز کے مطابق دونوں بہنیں نیکسن کے روزمرہ انتظامی امور میں شامل نہیں ہیں اور کم جنگ یون نے خود بتایا ہے کہ ان کے پاس NXC میں تقریباً 9 فیصد حصص ہیں۔ ان کی نجی زندگی کے بارے میں بھی بہت کم معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔ یوں کم جنگ یون کی اربوں ڈالر کی دولت کاروبار شروع کرنے سے نہیں بلکہ خاندانی وراثت کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔