ناندیڑ: (ورق تازہ نیوز)شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے بیٹے کی خواہش، پانچ لاکھ روپے کے مطالبے اور مبینہ طور پر "نربلی” کی دھمکی دے کر شادی شدہ خاتون کو جسمانی و ذہنی اذیت پہنچانے کے معاملے میں ناندیڑ دیہی پولیس نے نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ مبینہ واقعہ 13 مارچ 2018 سے 7 اگست 2026 کے درمیان ٹائر بورڈ کمان، دیگلور ناکہ، ناندیڑ علاقے میں پیش آیا۔
شکایت کے مطابق ملزمان نے باہمی سازش کے تحت خاتون کو یہ کہہ کر ہراساں کیا کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی شروع کرنے کے لیے اپنے میکے سے پانچ لاکھ روپے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ مطالبہ پورا نہ کرنے پر خاتون کو جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان نے خفیہ خزانہ حاصل کرنے کے لیے دو بیٹیوں کی انسانی قربانی دینے کی بات کہی۔ جب خاتون نے اپنی بیٹیوں کی قربانی دینے سے انکار کیا تو اسے گالیاں دی گئیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
اس معاملے میں امِ ایمن محمد وسیم اکرم، عمر 28 سال، ساکن ٹائر بورڈ کمان، دیگلور ناکہ، ناندیڑ کی شکایت پر ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 948/2026 درج کیا گیا ہے۔
ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) 2023 کی دفعات 85، 115(2)، 352، 351(2)(3)، 3(5) کے علاوہ مہاراشٹر انسانی قربانی اور دیگر غیر انسانی، توہم پرستانہ و جادو ٹونے کی ممانعت سے متعلق قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش پولیس ہیڈ کانسٹیبل کانگولے کر رہے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس مقدمے میں محمد وسیم اکرم عبد الواحد، آفرین بیگم عمران مومن، محمد عمران (دونوں ساکن مال ٹیکڑی، ناندیڑ)، بی بی تبسم شاہد جہانگیردار، شاہد جہانگیردار (دونوں ساکن ہتائی، ناندیڑ)، عبد الواسع عبد الواحد، رقیب عبد الواحد (دونوں ساکن کمبھار ٹیکڑی، ناندیڑ)، غوث بابا (ساکن وسمت) اور حافظ جبار (ساکن اکولہ) کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔