بڑا فیصلہ:شرعیہ کورٹ کا حکم کسی کی شادی ختم نہیں کر سکتا‘، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا فیصلہ

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے خواتین کی ازدواجی زندگی کے حقوق سے متعلق ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت کے مطابق کوئی بھی نجی مذہبی ادارہ یا شرعیہ کورٹ بتانے والی تنظیمیں قانونی عدالت کا درجہ نہیں رکھتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسی تنظیمیں کسی عورت یا مرد کی ازدواجی حیثیت طے نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اپنے کسی حکم کے ذریعے کسی شادی کو ختم کر سکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ رائے پور کے ٹکرا پارہ کی باشندہ نیروش عباسی سے متعلق ایک مقدمہ پر سماعت کرتے ہوئے کیا ہے۔ نیروش کے پہلے شوہر کا 2015 میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 18 جولائی 2020 کو ان کی شادی محمد عابد خان سے ہوئی۔ حالانکہ شادی کے بعد بچوں کے نئے خاندان میں گھلنے ملنے کو لے کر میاں بیوی کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔

متاثرہ خاتون کا الزام ہے کہ تنازعہ بڑھنے پر ان کے شوہر اور سسرال والوں نے انہیں ہراساں کیا۔ ’ون اسٹاپ سکھی سینٹر‘ میں کاؤنسلنگ کرانے کے بعد بھی جب معاملہ حل نہیں ہوا تو خاتون نے 7 اکتوبر 2021 کو ایس ایس پی سے شکایت کی۔ شکایت کی بنیاد پر یکم نومبر 2021 کو خواتین پولیس اسٹیشن، رائے پور میں شوہر اور سسرال والوں کے خلاف دفعہ 498-اے اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ دوسری جانب شوہر کا دعویٰ تھا کہ اس نے طلاق حسن کے تحت 3 مرحلوں میں (31 اگست، 30 ستمبر اور 30 اکتوبر 2021) ڈیجیٹل ذریعے سے طلاق دی تھی۔ اسی دوران رائے پور ادارۂ شریعہ اسلامی کورٹ نے 18 جنوری 2022 کو ایک حکم میں خاتون کو طلاق شدہ قرار دیا تھا

ادارۂ شریعہ کے اس حکم کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس امتیندر کشور پرساد کی بنچ نے شریعہ کورٹ کے حکم کو قانونی اختیار سے مکمل طور پر مبریٰ قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ’وشوا لوچن مدن بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ دارالقضاء یا فتویٰ جاری کرنے والے نجی ادارے ملکی قانون سے قائم عدالتیں نہیں ہیں۔ وہ ادارے صرف مذہبی مشورے دے سکتے ہیں، لیکن ان کی رائے کسی شخص کے قانونی حقوق، ازدواجی حیثیت یا ذمہ داریوں کو تبدیل نہیں کر سکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے عرضی کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ادارۂ شریعہ کے حکم کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے بتایا کہ نکاح کے خاتمے یا ازدواجی حقوق کا قانونی تعین صرف ملک کے مجاز عدالتی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے اس دوران طلاق حسن کی آئینی حیثیت پر کوئی تبصرہ یا فیصلہ نہیں دیا۔

22 اگست کو پونے میں کانگریس پارٹی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں نشا سابلے نام کی ایک قبائلی طالبہ کے بیان نے طوفان کھڑا کر دیا۔ نشا نے بتایا کہ مہاراشٹر کے قبائلی ہاسٹلوں میں چھٹیوں سے واپس آنے والی طالبات کا زبردستی حمل کا ٹیسٹ کرایا جا رہا تھا۔ یہ معاملہ پہلی بار گزشتہ سال کے آخر میں سامنے آیا تھا اور ریاست کے قبائلی فلاحی محکمہ کی جانب سے اس کی جانچ کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس معاملے میں دستاویزی ریکارڈ انتہائی کم ہیں۔ ہاسٹل کی طالبات کی صحت کے معائنے سے متعلق سرکاری قوانین میں ایسے کسی حمل کے ٹیسٹ کا انتظام نہیں ہے۔ مقامی قبائلی ترقیاتی افسران نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن 23 ستمبر 2025 کو مہاراشٹر ریاستی خواتین کمیشن کی جانب سے پونے کے واکڑ واقع قبائلی طالبات کے ہاسٹل کے اچانک معائنے کے اگلے ہی دن پونے کے سول سرجن نے میڈیا کو بتایا کہ چھٹیوں سے واپس آنے والی لڑکیوں کے حمل کے ٹیسٹ کے لیے طبی عملے کو زبانی ہدایات دی گئی تھیں۔

اب بھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ جانچ کس کے کہنے پر کرائی جا رہی تھی اور اگر اس مقصد کا کوئی تحریری حکم نہیں تھا تو زبانی ہدایات کس نے دی تھیں؟ تاہم، یہ بات پوری طرح ناقابل یقین لگتی ہے کہ کسی اعلیٰ سطحی ہدایت کے بغیر ریاست کے کئی قبائلی ہاسٹلوں میں ایسے ٹیسٹ کیے گئے ہوں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading