کل تک جو شخص مسجد کے محراب میں کھڑا ہوکر لوگوں کو اللّٰہ کا کلام سناتا تھا، آج وہی شخص اپنے اہلِ خانہ کو بے سہارا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
https://www.facebook.com/share/v/1EuJsRbdUU/
قاری محمد ساجد خان قاسمی، ساکن سہرسہ، بہار، گزشتہ 13، 14 برس سے ضلع ٹمکور کے تُرْویکیرے میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بچوں کی تعلیم کی خاطر بنگلور منتقل ہوئے اور آر۔ٹی نگر بنگلور کی اعلیٰ مسجد میں نائب امام کی ذمہ داری سنبھالی، مگر یکم اگست 2026 کو استعفیٰ دے دیا۔
اپنے دو صفحات پر مشتمل استعفیٰ نامے میں انہوں نے بعض ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ذہنی اذیت اور تکلیف کا ذکر بھی کیا تھا۔
ایک اہلیہ، دو معصوم بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک ضعیف والد کی کفالت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے قاری صاحب نے زیپٹو میں ڈلیوَری کا کام شروع کیا۔
مگر شاید کسی کو خبر نہ تھی کہ جو ہاتھ کبھی قرآن تھامتے تھے، وہی ہاتھ ایک دن ڈلیوری کا سامان اٹھائے موت کے دروازے تک پہنچ جائیں گے۔
آرٹی نگر کے ایک اپارٹمنٹ میں ڈلیوری کے دوران لفٹ کے لیے بنائی گئی کھلی جگہ سے وہ نیچے جاگرے اور شدید زخمی ہوگئے۔ ایک دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج صبح ان کی روح پرواز کرگئی۔
آہ۔۔۔۔۔آج ایک امام چلا گیا…
ایک باپ چلا گیا…
ایک شوہر چلا گیا…
ایک بیٹا چلا گیا…
اور اپنے پیچھے ایک اہلیہ، دو بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک بوڑھے باپ کو چھوڑ گیا۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں، ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
اِس موقع پر مساجد کے ذمہ داران سے درد مندانہ اپیل کرتی ہے کہ ائمہ و مؤذنین بھی انسان ہیں؛ انہیں عزت، سکون اور حسنِ سلوک کی ضرورت ہے۔ اگر مسجد کی خدمت کرنے والوں کو ہی ذہنی اذیت دی جاتی رہی، تو ایک ایک کرکے باصلاحیت علماء اور حفاظ محرابوں سے دور ہوتے جائیں گے، اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
علاقے کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ مکان مالک کے خلاف کیس درج کرائے تاکہ مرحوم کو معاوضہ مل سکے، کیوں کہ جس جگہ سے قاری صاحب گرے تھے، وہ لفٹ کی کُھلی جگہ تھی اور کوئی دیوار یا آڑ، نہیں رکھے تھے، اگر ہم کھڑے ہوں گے تو حافظ صاحب کے اہل خانہ کے لیے کچھ مدد ہوجائے گی
اللّٰہ تعالی قاری محمد ساجد خان صاحب قاسمی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
منقول. سوشل میڈیا