یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد بعض توانائی کی تنصیبات پر سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب ان حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحوثی جنگجوؤں کے میڈیا سینٹر کی جانب سے سات ستمبر کو فراہم کردہ ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حوثی گروپ کے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے الوَدِیعہ فوجی کیمپ کے نزدیک متعدد گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے گذشتہ تین روز کے دوران یمن پر 120 سے زائد سعودی حملوں کے جواب میں سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ حملے سعودی عرب کے مختلف اقتصادی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اور ان کا مقصد حالیہ سعودی حملوں کا جواب دینا تھا۔
تاہم سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوؤں یا حملوں کی تفصیلات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح آگاہ کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل یمن میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ شب سعودی عرب نے صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
حوثیوں کے ترجمان ذرائع ابلاغ ’المسیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے شہر الحزم کی جیل ’سینٹرل کریکشنل فیسلٹی‘ کی تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جبکہ مزید 20 افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔