2019 کے عمومی انتخابات اور مسلمانوں کا کردار

از قلم :- مولانا امتیاز اقبال

(استاد حدیث مدرسہ بیت العلوم مالیگاؤں و مدیر اعلیٰ اخبار نوید شمس)

۲۰۱۴ءکے پچھلے عمومی انتخابات میں فرقہ پرست پارٹی بھارتیہ جنتاپارٹی نے اپنے حمایتیوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی تھی ، اس وقت ان کا ایجنڈا تعمیر و ترقی اور بد عنوان کا خاتمہ کے ساتھ ہندو تو ا اور رام مندر تھا، پانچ سال حکومت کرنے کے بعد تعمیر وترقی کادعویٰ پھسپھسا ثابت ہوا ۔ بد عنوانی ختم کرنے میں کیا کامیابی ملی جگ ظاہرہے ۔رام مندر کے معاملے کو عدالت کے فیصلے کے بعد قانون سازی پرموقوف کردیاگیا، رہ گیا ہندو تو ، تو یہ پوری آب و تاب کے ساتھ اسلام مخالف و مسلمان دشمنی کی شکل میں جاری وساری ہے ۔ جس کا واضح ثبوت تین طلاق مخالف قانو ن اور گئو رکشا کے نام پر گروہی قتل ہے ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ؟ میدان میں آکر مقابلہ کریں تو سیاسی حکمت عملی آڑے آتی ہے ، سیکولر پارٹیاں ’’ہم ہیں نا ‘‘ کی دہائی دیتی ہوئی نظرآتی ہیں ،اگر پس منظر سےکام کریں توکامیابی نہیں ملے گی ،جیساکہ کبھی کبھی نہیں ملی ، اس لیے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی متعد د مسلم امیدوار وں کواُتار کر بآسانی ووٹ منتشر کردیئے جاتے ہیں ، ہماری قوم ہے کہ مسلک ومشرب سے اٹھ کر سیاسی طورپر ایک ہونے کیلئے تیارنہیں ہے ، ان حالات میں ہر بیدار مغز مسلمان کے دل میں سوال ہے کہ ۲۰۱۹ء شروع ہو چکاہے ، اب کیاہوگا ؟

اکابرین علماء ومشائخ کےافکار و خیالات اور تاثرات سے بندہ جو کچھ اخذکرسکاہے وہ تین باتیں ہیں ، اس لئے کہ حدیث شریف میں سرکار دو عالم ﷺ نے تین قسم کی اصلاح و درستگی کی دعا فرمائی ہے ،(۱) اصلاح دین (۲) اصلاح دنیا (۳) اصلاح آخرت اس کے تناظر میں تین باتیں عرض کروں گا ۔

(۱) پہلی بات: نبی پاک ﷺ نے دعا فرمائی : اللہم اصلح لی دینی الذی ھو عصمۃ امری ۔ یعنی اے اللہ آپ میرے دین کی اصلاح و درستگی فرمادیجئے اسلئے کہ وہ میرے معاملے کی حفاظت کا ذریعہ ہے ، اس لئے ہر ہرمسلمان کو چاہئے، اگر وہ دشمن کے حملوں سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنے دین وایمان کی حفاظت کاسامان کرے، اسکے لیے درکار اعمال کو انجام دے ، اللہ کو راضی وخوش کرنے کی تدابیر کرے، روٹھے رب کومنانے کیلئے کرنے کے کاموں کوانجام دے اور نہ کرنے والے کاموں سے اپنے آپ کو بچائے ۔ خود پرستی چھوڑ کر خداپرستی کی راہوں پرچلنے کی کوشش کرے ، علماء کرام وقائدین ملت اپنی ذاتی اصلاح کےساتھ ساتھ عوام کی اصلاح کیلئے میدان عمل میں کود پڑیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح مجددوقت حضرت سید احمد شہید بریلویؒ نے جب ہندوستان کو ظالم پنجوں سے چھڑانے کیلئے جہاد کا بگل بجایا تو سب سے پہلے پورے(غیرمنقسم)ہندوستان میں گھوم گھوم کر اجتماعی و انفرادی توبہ پر زور د یا، غیر شرعی اعمال و افعال سے توبہ کراکر اس سے کنارہ کشی کی ترغیب دی ۔ جو اوامر مسلمان ترک کرچکے تھے اس کو بجا لانے کی طرف راغب کیاماشاءاللہ آپ کی کوششوں سے مساجد آبا د ہوئیں، شراب خانے اور جوئے کے اڈے بند ہوئے ، سود خوری ختم ہوئی ، برسوں کے بعدہندوستانی مسلمانوں کا قافلہ حج کیلئے روانہ ہوااورفریضۂ حج انجام دیاگیا۔ زکوٰتیں ادا ہوئی وغیرہ وغیرہ نمایاں تبدیلیاں ہوئیں، ، میرے مرشد فکر حضرت مولانا علی میاںؒ اور میرے مرشد روحانی سیدی و مولائی حضرت اقدس مفتی احمد صاحب خانپوری مدظلہٗ العالی ۔اسی طریقہ کارپرزوردیتے ہیں کہ اس طرز پر اگر محنت کی گئی اور ایمان کی باد بہاری چلے گی تو سمجھ لیں کہ ہم اپنے حصے کاکام کرچکے ہیں اس کام کو اصلاح و دعوت سے تعبیر کرتے ہیں۔

(۲)دوسری بات جو دعاکے دوسرے حصے اللہم اصلح لی دنیای التی فیھا معاشی سے ماخوذ ہےیعنی اے اللہ میری دنیاکی اصلاح فرمادیجئے جسمیں مجھے رہناسہناا ور زندگی گذارنا ہے اس دعا کے ذریعہ نبی پاک ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ دنیامیں زندگی گذارنے کے بقدر دنیاکی فکر کرنی چاہئے چونکہ دنیا کواللہ نے دارالاسباب بنایاہے اسلئے اسکے مناسب اسباب اختیار کرنے کابندوں کومکلف کیاگیاہے ، اسکا تقاضا یہ ہے کہ معاشی اورسماجی سرگرمیوں کو پوری جدوجہد کے ساتھ اختیارکیاجائے،روزی روٹی کے حصول کیلئے جوجو بھی لائحہ عمل حدود شریعت میں رہ کر اختیارکیے جاسکتےہیں وہ ضرور کیے جائیں ،اس پر صالح نیتوں اور مقاصد حسنہ کے حصول پر پوری محنت صرف کی جائے، اور معاشیات کومضبوط کیاجائے، اسی کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی صف بندیاں کی جائیں، سب سے پہلے یہ کوشش کی جائےکہ صلح ومعاہدے کیے جائیں، دشمنوں اور مخالفین کی فہرستوں میں سے نام کم کرنےکی کوشش کی جائے، ملک میں بسنے والی جن قوموں اور جماعتو ں سے صلح ہو سکتی ہواختلافات کم کرکے انکو گلے لگایاجائے، یہ کام سماجی کارکنوں اور سیاسی لیڈران کا ہے کہ جن جماعتوں کےساتھ ہمارا اتحاد ہوسکتا ہے مفید شرائط کے ساتھ ان سے اتحاد کی بات کی جائے ، دوسر اکام اس میدان کے ماہرین کا یہ ہو کہ جن جن حلقوں سے مسلمان امیدوار چن کر آسکتے ہوں وہاں مسلمانوں میں سیاسی و سماجی بنیادوں پر اتحاد کی انتھک جدوجہد کی جائے، جس امیدوارکی فتح ممکن ہو اسکے نام پر پوری قوم مسلم کومتفق کیاجائے اور زیادہ سے زیادہ امیدوار چاہے کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہوں (بشرطیکہ فرقہ پرست پارٹی نہ ہو) اس کے ذریعے پارلیمنٹ پہنچایاجائے اورپورے ملک میں سیاسی بیداری پیداکی جائے، ووٹ کی اہمیت کواجاگر کیا جائے ۔
(۳ )تیسری بات جودعائے رسول اکرمﷺ کے تیسرے حصے سے ماخوذ ہے اللہم اصلح لی آخرتی التی فیھا معادی ۔ یعنی اے اللہ آپ میری آخرت درست فرمادیجئے جہاں پر میرا آخری ٹھکانہ ہے، دنیاکےلیے درکار کوششوں کو انجام دیتے دیتے انسان خود اپنے ہی آخری انجام کوبھول جاتاہے ، دنیا اور دنیاوی علائق میں پھنس کرموت اورمابعدالموت کے مراحل کو فراموش کردیاجاتاہے ، اور اکثر مرتبہ یہی ہوتاہے کہ وہ لوگ بھی جو دوسروں کے دین و دنیا کی فکرکرتے ہیں وہ اپنی آخرت کی تیاری سے غافل ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے حضرت فقیہ الامت ؒ نے متعد د خطوط میں اپنے متعلقین و متوسلین کو اس بات پرتنبیہہ فرمائی ہے کہ دیکھنا !! دوسروںکی فکر میں اپنےآپ کو مت بھول جانا!! تیسری بات کاخلاصہ یہ ہے کہ آخرت کیلئے بیداری اورتوجہ ایک ایسا ترقاق ہے کہ جس کے ذریعہ دنیا ومال ،عہدہ و منصب کی محبت اور گناہوں کے شوق کی زہرناکی کو ختم کیاجاسکتاہے ۔ اگرآخرت کی طرف دل مائل ہوگیا تو حکومتوں کے بدلنے سے ، مال و دولت کے منہ پھیر لینے سے اور عہدہ و مناصب کے نہ ملنے سے پریشانی نہیں ہوگی ۔ اسلئے کہ پوری تدبیر کے بعد بھی اگر منشائے خداوندی کے مطابق ناپسندیدہ حالات پیش آگئے!! اللہ نے ہماری آزمائش کیلئےظالم حکومت کو مزید مہلت عطا فرمادی تو آخرت کی طرف توجہ سے اِس مصیبت کا احساس زیادہ نہیں ہوگا۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آخرت کی طرف متوجہ رہنے کی برکت سے گناہوںسے بچنے اور اعمال صالحہ کی توفیق ہوگی ۔ یہی چیزاللہ کی طرف سے آزمائش کے بعد کامیابی کاسرٹیفکیٹ ہے اس بنیاد پر اللہ کی مدد و نصرت شامل ہوجائے گی ۔ انشاء اللہ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading