مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کی سیشن عدالت نے 2022 میں پیش آئے ایک موب لنچنگ کیس میں سات افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان نے **نذیر احمد نامی شخص کو گائے کی اسمگلنگ کے شبہے میں بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی ۔فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج *تبسم خان* نے 12 جون 2026 کو سنائے گئے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تمام
ملزمان ہجوم کا حصہ تھے اور حملے میں شریک تھے۔ عدالت نے موب لنچنگ کو ایک سنگین اور تشویشناک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ کیا اور متاثرہ شخص پر انتہائی سفاکانہ تشدد کیا۔عدالت نے اگرچہ جرم کی سنگینی کو تسلیم کیا، لیکن یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزمان کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا اور جیل میں ان کا رویہ بھی غیر معمولی نہیں تھا۔
اسی بنیاد پر عدالت نے سزائے موت دینے سے انکار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصلے میں متاثرہ نذیر احمد کی اہلیہ، بچوں اور والدین کو سرکاری متاثرین معاوضہ اسکیم کے تحت معاوضہ دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں حملے میں زخمی ہونے والے دو دیگر افراد کو جرمانے کی رقم سے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا جب نذیر احمد اور ان کے ساتھیوں پر گائے کی اسمگلنگ کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ہجوم نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں نذیر احمد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔